
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی اضافی سکیورٹی کےخلاف درخواست نمٹادی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں منگل 15 فروری کو سابق چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی اضافی سکیورٹی کےخلاف درخواست کے کیس کی سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس پاکستان گلزاراحمد کی اضافی سکیورٹی مانگنے کے خلاف درخواست درخواست نمٹا دی۔
عدالت نے فیصلے دیا کہ توقع ہے کہ حکام سکیورٹی سے متعلق خط پر مفاد عامہ کےمطابق فیصلہ کریں گے، پبلک آفس ہولڈرز کو ریٹائرمنٹ کے بعد ایک برابر شہری کے طور پر ڈیل کیا جانا چاہیے،ججوں کا وجود ہی خالصتاً عوام کی خدمت کیلئے ہے۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ایسا کچھ ریکارڈ پر نہیں کہ سابق چیف جسٹس کے خط پر حکام نے عملدرآمد کردیا،کس شہری کو کتنی سکیورٹی چاہیے یہ دیکھنا ایگزیکٹو اتھارٹیز کا کا کام ہے۔
درخواست گزار ریاض حنیف راہی عدالت کے سامنے پیش اور کیس کو دوسرے بنچ کو منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔
درخواست گزار نےموقف اختیار کیا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری سے متعلق ایسا ہی کیس جسسٹس محسن اختر کیانی نے سنا تھا،بہتر ہوگا کہ یہ کیس بھی اسی بنچ کے سامنے منتقل کیا جائے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ آپ کواپنی مرضی کا فورم نہیں مل سکتا، کون سا بنچ سنے گا یہ عدالت کا اختیار ہے آپ کا نہیں،آپ میرٹ پر اپنے دلائل شروع کریں۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ میرے اور کوئی دلائل نہیں ہیں،پھرجو بھی مناسب آرڈر جاری کردیں۔



