کراچی:سندھ بھرمیں ڈھائی ماہ بعدسی این جی اسٹیشنزکھل گئے

کراچی سمیت سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشنز ڈھائی ماہ بعد دوبارہ کھل گئے۔
سوئی سدرن گیس کمپنی کی ہدایات کی روشنی میں کراچی سمیت سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشنز دوبارہ فعال ہوگئے تاہم کسی سی این جی اسٹیشن پر رش دیکھنے میں نہیں آیا۔صارفین کا کہنا تھا کہ انہوں نے تو آئے روز سی این جی کی بندش سے تنگ آ کر سی این جی کٹ ہی گاڑی سے نکلوادی تھی۔
ایس ایس جی سی کے مطابق آج سے صرف آر ایل این جی پر چلنے والے سی این جی اسٹیشنز دوبارہ فعال ہوئے ہیں۔
واضح رہے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے یکم دسمبر سے ڈھائی ماہ کیلئے سندھ میں تمام سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی معطل کردی گئی تھی تاکہ گھریلو صارفین کو گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
واضح رہے گیس کی طویل بندش کیخلاف آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے 21 دسمبر کو کراچی میں دھرنے کا اعلان کیا تھا۔
آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے ممبر سمیر نجمل نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں روزانہ 9 گھنٹے کیلئے گیس فراہم کی جاتی ہے، اس کے برعکس صوبہ سندھ جہاں تقریبا 64 فیصد گیس پیدا ہوتی ہے، وہاں گیس اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی کئی روز سے معطل ہے۔
سی این جی ایسوسی ایشن حکام کا موقف تھا کہ اسٹیشنز کو کچھ دیر کیلئے گیس رکشوں، وین اور ایمبولنسز کو فراہم کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ افراد جن کی گاڑیوں میں پیٹرول ٹینک نہیں ہے، اُن کا کاروبار چل سکے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہم سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں لیکن ایم ڈی ایسوسی ایشن کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔
گیس بندش ختم نہ ہونےپر سوئی گیس ہیڈآفس کےگھیراؤ کااعلان
کراچی کے صنعتکاروں نے دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ اگر 72 گھنٹوں میں گیس کی بندش ختم نہ ہوئی تو سوئی گیس کے ہیڈ آفس کا گھیراؤ کریں گے۔
کراچی چیمبر آف کامرس میں ہونے والی پریس کانفرنس میں صنعتکاروں نے کہا کہ شہر کی اہم شاہراہوں پر بھی تاجر و صنعتکار برادری مظاہرے بھی کرے گی۔
سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے اسٹے آرڈر کے باوجود گیس بند ہوئی اور ریلیف نہیں ملا، حکومت کو کہا کہ آدھی گیس ہی بحال کردیں تاکہ صنعتیں چل سکیں۔



