
اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کمیشن سے اب تک کئے گئےاقدامات سے متعلق آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرلی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ لاپتہ افراد کمیشن بھی اس کیس میں فریق ہے،لاپتہ افراد کمیشن کی جانب سے کیا کوئی آیا ہے؟۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کمیشن کی جانب سے کوئی نہیں آیا، لاپتہ افراد کے کیسز کی تعداد 8 ہزار تھی،کچھ جیلوں میں تھے اور کچھ حراستی مراکز سے واپس آئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ لاپتہ افراد حراستی مراکز میں تھے تو مطلب ہے کہ لوگوں کو اٹھانے کی پالیسی تھی، اگر ایسی کوئی پالیسی تھی تو پھر تو ذمہ داروں کے خلاف کارروئی ہونی چائیے،یہ بہت واضح ہے کہ ریاست کسی کو ایسے نہیں اٹھا سکتی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جولوگ پچھلے سال اٹھائے گئے،ان کے کیسز میں حکومت نے کیا کیا؟۔ درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ لاپتہ افراد کمیشن کہتا ہے کہ 221 لاپتہ افراد کی میتیں بھی واپس کرچکے ہیں،ہم نے کمیشن کو لکھا ہے کہ یہ بہت الارمنگ صورتحال ہے۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ لاپتہ افراد کمیشن کا کام رپورٹس لکھنا نہیں بلکہ ازالہ کرنا تھا، بادی النظر میں لگتا ہے کہ لوگوں کو اٹھانا کوئی پالیسی ہے۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ سال 2016 میں اس شہر سے دو بچوں کو اٹھایا گیا،ابھی تک ان کا پتہ نہیں چلا، یہ تو ایک کلاسیک کیس ہے،اب صرف ہدایات جاری کرنے کا وقت نہیں رہ گیا،وقت آگیا ہے کہ اب کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے، عدالت فیصلہ دے سکتی ہے اور ہم فیصلہ دیں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کمیشن سے اب تک کے اقدامات سے متعلق آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو 28فروری کو حتمی دلائل کیلئے طلب کرلیا اور ریمارکس دئیے کہ آئندہ سماعت پر مزید کوئی التوا نہیں ملے گا۔



