اہم خبریںپاکستان

پاکستان اور چین کا مشترکہ مسئلہ بھارت ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ، جو کہ کسی حد تک چين کا بھی ہے وہ ہمسايہ بھارت ہے۔

چین کے چینل سی جی ٹی این کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہميں اپنے اختلافات سياسی گفت وشنيد سے حل کرنا چاہيے لیکن بدقسمتی سے بھارت ميں ايسی حکومت ہے جو انتہا پسند اور قوم پرست ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہميں يہ کٹھن محسوس ہوتا ہے کہ ايسی حکومت کے ساتھ آگے کيسے بڑھيں؟ کشمير بھارت کے ساتھ ہمارا واحد تنازع ہے اور مسئلے کے حل کے بجائے بھارت نے صورتحال بدتر بنا دی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اميد کرتا ہوں جلد يا بدير ہم اسے گفت وشنيد سے حل کرليں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت مشکل صورتحال سے نکلنے کے لیے چين پاکستان کا رول ماڈل ہے اور ضروری ہے اپنی زرعی پيداوار بڑھانے ميں چين کا تعاون حاصل ہو۔

انہوں نے کہا کہ سی پيک بيلٹ اينڈ روڈ منصوبہ فليگ شپ منصوبہ ہے جس کا پہلا مرحلہ موصلات ميں بہتری اور توانائی کا منصوبہ تھا اور ہم اب سی پيک کے دوسرے مرحلے ميں داخل ہو رہے ہيں۔

عمران خان نے کہا کہ چين اور پاکستان کے تعلقات خطے ميں استحکام لائے ہيں اور پاک چين دوستی خطے کے مان کی ضمانت ہے، پاکستان اور چين کی دوستی ہر مشکل وقت ميں توقعات پر پورا اترتی ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہمارے امريکا کے ساتھ اچھے اور چين کے ساتھ انتہائی مضبوط برادارانہ تعلقات ہیں۔

افغانستان سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ پہلا مرتبہ افغانستان ميں امن کو ايک موقع ملا ہے اور پاک چين متفق ہيں کہ افغانستان ميں زيادہ عوام متاثر ہوئے ہيں۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان کو سنگين انسانی بحران کا سامنا ہے اور افغانستان کا زيادہ تر انحصار غير ملکی امداد پر ہے، کسی قوم نے اتنے مصائب نہيں جھيلے جتنا افغان عوام نے جھيلے ہيں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان ميں اس وقت کوئی جنگ نہيں ہو رہی لیکن 4کروڑ افغان ميں سے نصف غذائی عدم تحفط کی بدتر صورتحال سے دوچار ہيں، اس لیے ہر کسی کی اولين ترجيح افغان عوام ہونے چاہيے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغان عوام نے 40سال تک جنگ کا سامنا کيا، طالبان حکومت سے قطع نظر سب کو افغان عوام کی مدد کرنی چاہيے کیونکہ غير ملکی امداد منجمد ہونے سے افغان حکومت کو بحران کا سامنا ہے۔

ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ميں نے اپنی زیادہ تر زندگی کھيلوں ميں گزاری ہے اور وزيراعظم بننے کے بعد اسپورٹس ديکھنے کا موقع نہيں ملتا لیکن بيجنگ ميں سرمائی اولمپکس ديکھنے پر خوشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے میری حکومت برسر اقتدار آئی ہے پاکستان نے جیو اکنامکس پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے، اب تک ہم نے جیو اکنامکس کے مقابلے جیو اسٹریٹیجک کو اہمیت دی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان ٹيکنالوجی زونز ميں سرمايہ کاری کے لیے مراعات دے رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہماری کرنسی نے اپنی آدھی سے زيادہ قيمت کھو دی اور دو انتہائی بدعنوان حکومتيں مالی بحران کی وجہ بنيں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری 25فيصد آبادی غربت کی لکير سے نيچے زندگی گزار رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button