پاکستان

پنجاب کے اسکولوں میں پنجابی زبان نہ پڑھائے جانے پر جواب طلب

سپریم کورٹ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے موقع پر وزارت وفاقی تعلیم سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔

 

سپریم کورٹ نے پنجاب میں پنجابی لٹریچر نہ پڑھائے جانے پر پنجاب حکومت سے بھی جواب طلب کر لیا۔ بدھ کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی۔

 

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے حکم پر عمل ہونا چاہیے، تعلیم کے علاوہ ایک چیز تربیت بھی ہوتی ہے، شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی زیان کو زندہ رکھیں،اردو کو عالمی زبان بنانا چاہیے،

 

تعلیمی اداروں میں اردو زبان کو کوئی فروغ نہیں مل رہا، وفاقی حکومت نشاندہی کرے کہ اردو زبان رائج کرنے کے کون سے ادارے ہیں،باقی صوبے اپنی زبانوں کا تحفظ کر رہے ہیں تو پنجاب کیوں پیچھے ہے،اردو زبان رائج کرنے کے معاملے کو اب سنجیدگی سے دیکھیں گے۔

عدالت عظمی نے اردو زبان رائج نہ کرنے پر وفاقی وزارت تعلیم اور پنجاب میں پنجابی لٹریچر نہ پڑھائے جانے پر پنجاب حکومت سے بھی جواب طلب کر تے ہوئے معاملہ پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button