
حکومت نے آج منی بجٹ پاس کرانے کی تیاری کرلی ہے، منی بجٹ کو آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش کیا جائے گا۔ وزيراعظم بھی آج پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
منی بجٹ کو پاس کرانے کیلئے حکومت کو قومی اسمبلی میں عددی اکثریت ثابت کرنی ہوگی، حکومت نے اتحادیوں کے تمام اراکین کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کردی ہے، جب کہ اجلاس کا 22 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا ہے۔
تمام ایم این ایز کو آج دو بجے ایوان میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے اراکان اسمبلی کیلئے عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے ،اپوزیشن لیڈر شہباز شریف احتجاج کی قیادت کریں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا تھا کہ منی بجٹ کے منظور ہونے سے قبل ہی مہلک اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ حکومت سخت شرائط ملک پر مسلط کرنے پر تلی ہوئی ہے اور آئی ایم ایف پروگرام پر دوبارہ چیت سے راہ فرار حکومت کی نااہلی ہے۔ کیا ضمانت ہے یہ بل منظور ہو بھی جائے تو آئی ایم ایف نئی شرائط کا تقاضا نہیں کرے گا ؟
حکومتی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اس تمام سلسلے میں گومگوں کا شکار ہے، ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی منی بجٹ سے متعلق اجلاس میں شرکت کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کرسکی ہے، پارٹی ارکان کو تاحال گرین سگنل نہیں ملا ہے۔
ایم کیو ایم نے منی بجٹ میں 11 ترامیم تجویز کی ہیں تاہم حکومت نے اب تک اتحادیوں کو منی بجٹ میں کسی بھی نوعیت کی تبدیلی کی یقین دہانی نہیں کرائی ہے، ایم کیو ایم کی قیادت منی بجٹ پر حکومت کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ تاحال نہیں کرسکی ہے۔
دوسری جانب منی بجٹ پارلیمان میں پیش کیے جانے سے قبل وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرلیا، اجلاس میں تمام ارکان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا ہے کہ سیاسی جواری ہر بار حکومتی ارکان سے رابطوں کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ووٹنگ میں ہمیشہ حکومت جیت جاتی ہے۔



