
وزارت قانون کی جانب سے نئے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کیلئے سمری کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں، آئین کے مطابق سینئر ترین جج کو چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے۔
وزارت قانون کی جانب سے 11 جنوری بروز منگل کو جاری بیان کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال 2 فروری کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھائیں گے، وزارت قانون کی جانب سے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے سمری پر کام شروع کردیا گیا ہے۔
وزارت قانون نئے چیف جسٹس کے تقرر کی سمری صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھیجے گی، صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون چیف جسٹس آف پاکستان کا نوٹی فکیشن جاری کریگی۔
آئین کے مطابق سینئر ترین جج کو چیف جسٹس آف پاکستان بنایا جاتا ہے، جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں، جسٹس عمر عطا بندیال 16 ستمبر 2023 تک چیف جسٹس کے منصب پر فائز رہیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے 27 ویں اور موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد یکم فروری کو ریٹائر ہو جائیں گے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے جب وکالت کی دنیا میں قدم رکھا تو جنرل ضیاالحق کی حکومت تھی، جب وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج تعینات ہوئے تو جنرل پرویز مشرف اقتدار میں تھے اور اس وقت جب انھوں نے یہ منصب سنبھالا ہے تو موجودہ فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کی توسیع اور پرویز مشرف کی پھانسی کی سزا کے فیصلے سپریم کورٹ کے سامنے تھے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ دو فروری سنہ 1957 میں ایڈووکیٹ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔
انھوں نے ابتدائی تعلیم گلستان سکول سے حاصل کرنے کے بعد ایس ایم لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور سنہ 1986 میں ہائی کورٹ کے وکیل رجسٹر ہوئے اور دو برس بعد ہی ان کی سپریم کورٹ میں انرولمنٹ ہوگئی۔
جسٹس گلزار احمد سولِ کارپوریٹ شعبے کے وکیل رہے ہیں اور وہ کئی بین الاقوامی کمپنیوں اور بینکوں کے قانونی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔
جسٹس گلزار احمد جب سنہ 2002 میں ہائی کورٹ کے جج بنے تو دو سال قبل ہی جنرل پرویز مشرف کے جاری کیے گئے عبوری آئینی حکم کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے اکثر جج صاحبان حلف اٹھا چکے تھے۔
صرف پانچ سال کے بعد یعنی سنہ 2007 میں انھیں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب دوبارہ عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے کا حکم آیا تاہم وہ سندھ ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے ساتھ ان ججوں میں شامل رہے جنھوں نے یہ حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔



