اہم خبریںپاکستانحالات حاضرہسیاست

ملکی استحکام کے لیے تمام صوبوں نے اپنی ترقی پر سمجھوتہ کیا لیکن ملک کی مضبوطی سب سے ضروری ہے، شرجیل میمن

کراچی: سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ملک اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور تمام صوبے محدود وسائل کے باوجود قومی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔وفاق کی مضبوطی اور ملکی استحکام کے لیے تمام صوبوں نے اپنی ترقی کی رفتار پر سمجھوتہ کیا اور قومی مفاد کو ہمیشہ اپنی ترجیح بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی ترقی سے پہلے پاکستان کی بہتری اور استحکام کو مقدم رکھا کیونکہ ترقی بعد میں بھی کی جا سکتی ہے، لیکن ملک کا مضبوط ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے جدید تقاضوں کے مطابق میڈیا مانیٹرنگ کے لیے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی خدمات حاصل کی ہیں، جس کے ذریعے اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر نشر و اشاعت ہونے والے مواد کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ملک کا پہلا صوبہ ہے جس نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے ’’جرنلسٹس پروٹیکشن ونگ‘‘ قائم کیا، جبکہ سندھ انفارمیشن کمیشن بھی سب سے پہلے سندھ ہی میں قائم کیا گیا تاکہ معلومات تک رسائی اور شفاف طرزِ حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحافت کو جس قدر آزادی سندھ میں حاصل ہے، اس کی مثال کسی دوسرے صوبے میں نہیں ملتی، لیکن بدقسمتی سے اسی آزادی کا سب سے زیادہ نشانہ بھی حکومت سندھ بنتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے من گھڑت کہانیاں اور غیر مصدقہ اطلاعات پھیلاتے ہیں، جبکہ صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر خبر کی تصدیق کے بعد ہی اسے عوام تک پہنچایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید ہر شہری اور ہر صحافی کا حق ہے، تاہم یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ بغیر تحقیق اور تصدیق کے کسی بھی خبر کو نشر نہ کیا جائے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بعض افراد اپنی خواہشات کے مطابق وزارتیں تقسیم کرنے اور وزیراعلیٰ مقرر کرنے جیسے غیر ذمہ دارانہ بیانیے تشکیل دیتے ہیں، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہوتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ایک صحافی محض ایک ٹویٹ کرنے پر اگلے ہی روز مشکلات کا شکار ہو گیا، لیکن سندھ میں اظہارِ رائے کی آزادی کو ہمیشہ تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے فروغ کے لیے باقاعدہ پالیسی مرتب کی، جس کے تحت بجٹ بھی مختص کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ کی پہلی فلم ’’میر الیاری‘‘ تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی، تاہم بعض حلقوں نے اس کی لاگت کے بارے میں بیس کروڑ روپے جیسے بے بنیاد اعداد و شمار پھیلائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فلم مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پیش کی گئی اور بعد ازاں ایک نجی ٹی وی نیٹ ورک نے بھی اس کے نشریاتی حقوق حاصل کیے، جو اس منصوبے کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ اس وقت مختلف دستاویزی فلمیں بھی تیار کر رہی ہے تاکہ دنیا کو سندھ کا حقیقی، مثبت اور ثقافتی چہرہ دکھایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ’’آئی ورک فار سندھ‘‘ کے نام سے ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرایا، جسے اب تک 48 لاکھ سے زائد افراد وزٹ کر چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ نوجوان اس پر رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس پلیٹ فارم میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ’’آٹو سی وی‘‘ کی سہولت بھی موجود ہے، جس کے ذریعے امیدوار بغیر کسی اضافی محنت کے اپنی پیشہ ورانہ معلومات مرتب کر سکتے ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے اپنے خطاب میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی کارکردگی کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ عوام کو جدید، محفوظ اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد بڑے منصوبوں پر بیک وقت کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یلو لائن بی آر ٹی منصوبے پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے، تاج حیدر برج کے ایک حصے کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ ڈپو کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے دوران ایک پراجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے کنٹریکٹر کو قواعد و ضوابط کے برعکس پیشگی ادائیگی کی گئی، جس پر حکومت سندھ نے خود کارروائی کرتے ہوئے احتساب کی عملی مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ شہری علاقوں میں ایسے بڑے منصوبوں کی تکمیل کسی صحرا میں تعمیراتی کام کرنے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور دشوار ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں گیس، پانی، بجلی، سیوریج اور دیگر یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے، جس کے باعث بعض اوقات منصوبوں میں تاخیر ناگزیر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب متعلقہ کنٹریکٹر مطلوبہ رفتار سے کام مکمل نہ کر سکا تو حکومت سندھ نے اس کا معاہدہ منسوخ کرکے منصوبہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے سپرد کر دیا تاکہ منصوبہ بروقت مکمل کیا جا سکے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی بی آر ٹی منصوبہ محض ایک ٹرانسپورٹ اسکیم نہیں بلکہ کراچی کے عوام اور شہر کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اورنج لائن بی آر ٹی کو حکومت سندھ نے اپنے وسائل سے مکمل کیا، جبکہ گرین لائن بی آر ٹی وفاقی حکومت کا منصوبہ تھا جو بعد ازاں حکومت سندھ کے سپرد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت سندھ نے گرین لائن کا انتظام سنبھالا تو اس کی یومیہ رائیڈرشپ تقریباً 53 ہزار تھی، لیکن صرف تین ماہ کے اندر اسے بڑھا کر 78 ہزار تک پہنچا دیا گیا۔ اسی طرح اورنج لائن بی آر ٹی کی یومیہ رائیڈرشپ 1,800 سے بڑھ کر 8,500 تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز بس سروس اس وقت کراچی سمیت حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ، شکارپور، خیرپور اور ٹنڈوالہیار میں کامیابی سے چل رہی ہے، جہاں روزانہ تقریباً ایک لاکھ پچیس ہزار شہری اس سہولت سے استفادہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ عوام کو سستی اور معیاری سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے اس منصوبے پر مسلسل سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان کی پہلی الیکٹرک (ای وی) بس بھی حکومت سندھ ہی لے کر آئی، جبکہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پنک اسکوٹی اسکیم متعارف کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد اس منصوبے کو صرف ایک ہزار اسکوٹیز تک محدود قرار دے کر تنقید کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب یہ منصوبہ شروع کیا گیا تو صرف تقریباً 150 خواتین کے پاس موٹر سائیکل چلانے کا لائسنس موجود تھا، جبکہ آج 25 ہزار سے زائد خواتین ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پہلے خواتین کے اسکوٹر چلانے پر اعتراض کرتے تھے، آج وہی اپنی بیٹیوں کو اس منصوبے میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں، جو معاشرتی سوچ میں مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف ایک لاکھ خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کی سہولت فراہم کرنا ہے اور اگر سرکاری وسائل محدود ہوئے تو نجی شعبے کو بھی اس عمل میں شریک کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنک اسکوٹی صرف خواتین کے لیے مخصوص منصوبہ ہے، اسی لیے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی مرد پنک اسکوٹی استعمال کرتا ہوا پایا جائے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت سندھ الیکٹرک ٹیکسی منصوبہ بھی متعارف کرانے جا رہی ہے، جبکہ خواتین کے لیے خصوصی ’’پنک ٹیکسی‘‘ سروس کی خوشخبری بھی بہت جلد عوام کو دی جائے گی۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنی تقریر میں سندھ ریونیو بورڈ (SRB) کی کارکردگی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے محصولات کی وصولی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی شرح نمو تقریباً 10 فیصد رہی، وہاں سندھ ریونیو بورڈ نے 24 فیصد گروتھ حاصل کی، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو 18 فیصد، پنجاب 16 فیصد جبکہ سندھ حکومت صرف 15 فیصد ٹیکس وصول کرتی ہے، اس کے باوجود سندھ کی محصولات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کے پاس تقریباً 23 ہزار ملازمین ہیں، جبکہ سندھ ریونیو بورڈ صرف 368 افسران اور ملازمین کے ساتھ اپنے محصولات کے اہداف کامیابی سے حاصل کر رہا ہے۔ ان کے بقول، محدود افرادی قوت کے باوجود ایس آر بی کی کارکردگی اس امر کا ثبوت ہے کہ مؤثر حکمت عملی اور شفاف نظام بہتر نتائج دے سکتا ہے۔
اپنے خطاب کے تیسرے حصے میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے حکومت سندھ کی ترقیاتی حکمت عملی، امن و امان، تعلیم، انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گزشتہ برسوں کے دوران صوبے میں تین ہزار ایک سو چودہ کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام مکمل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کرایا گیا، جنہوں نے زمینی حقائق کا مشاہدہ کرنے کے بعد حکومتی اقدامات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام شاہراہوں کی حالت سب کے سامنے ہے، جبکہ سندھ حکومت کے زیر انتظام سڑکیں نسبتاً بہتر معیار کی حامل ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں ستانوے ہزار اساتذہ کی بھرتیاں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں تقرریوں کے باوجود آج تک کوئی ایک بھی ایسا شخص سامنے نہیں آیا جس نے یہ الزام لگایا ہو کہ کسی امیدوار کو سفارش یا سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ملازمت دی گئی۔ ان کے بقول یہ حکومت سندھ کے شفاف نظامِ بھرتی کا واضح ثبوت ہے اور اس کارکردگی کو تنقید کے بجائے سراہا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نے کراچی اور سندھ کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کراچی سے لے کر کشمور تک صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سندھ پولیس نے امن و امان کے قیام میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سندھ میں اغوا برائے تاوان کا کوئی بڑا مسئلہ موجود نہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔
سینئر وزیرشرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو نہ صرف ملکی بلکہ وفاقی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے خود اس ماڈل کی تعریف کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو ہدایت کی کہ وہ حکومت سندھ کے تجربات سے استفادہ کریں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ملک بھر میں سندھ حکومت کے منصوبوں کو سراہا جاتا ہے، وہیں صوبے کے اندر بعض اپوزیشن جماعتیں محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ان منصوبوں کو تسلیم کرنے سے گریز کرتی ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے تھر کول منصوبے کو پاکستان کی توانائی کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا خواب تھا، تاہم ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس منصوبے پر کام روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد صدر آصف علی زرداری کی خصوصی دلچسپی سے اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں آج تھر کے کوئلے سے تین ہزار نو سو ساٹھ میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے اس منصوبے پر تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، لیکن اس کے ثمرات صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ پورا پاکستان اس سے مستفید ہو رہا ہے، کیونکہ تھر سے پیدا ہونے والی بجلی قومی گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول اس سے بڑھ کر پاکستان کی خدمت اور کیا ہو سکتی ہے کہ سندھ اپنے وسائل سے پورے ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے تقریباً ہر ضلع میں ڈائیگنوسٹک اور دیگر طبی سہولیات کے مراکز قائم کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج وفاقی حکومت بھی مختلف منصوبوں میں حکومت سندھ کے تجربات سے استفادہ کرنے کی خواہاں ہے اور متعدد شعبوں میں سندھ سے معاونت طلب کر رہی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے سیلاب متاثرین کے لیے تعمیر کیے جانے والے مکانات کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ سندھ میں جاری ہے، جس کے تحت اکیس لاکھ مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی مجموعی آبادی تقریباً پانچ کروڑ چھپن لاکھ چھیانوے ہزار نفوس پر مشتمل ہے، اور اگر ایک گھر میں اوسطاً چھ افراد رہتے ہوں تو یہ منصوبہ ایک کروڑ چھبیس لاکھ سے زائد افراد کو رہائش فراہم کرے گا، جو صوبے کی تقریباً بائیس فیصد آبادی کے مساوی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس میگا منصوبے کی شفافیت اور معیار کا آڈٹ عالمی بینک، پاکستان آرمی اور مختلف بین الاقوامی ڈونر اداروں نے کیا ہے، جنہوں نے اس منصوبے کو کامیاب اور شفاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر ان تمام گھروں کی ملکیت خواتین کے نام منتقل کی جا رہی ہے تاکہ انہیں معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔
اپنے خطاب میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بلدیاتی خدمات، صحت، تعلیم، صنعت، سرمایہ کاری اور صوبے کے مثبت تشخص پر تفصیلی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں بجٹ اور دیگر معاملات پر طویل تقاریر ہوئیں، لیکن کسی نے کچرے کے مسئلے کا ذکر نہیں کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاں جہاں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ادارے کام کر رہے ہیں، وہاں صفائی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 کے تحت جدید ایمبولینس سروس بھی عوام کو بروقت اور معیاری طبی امداد فراہم کر رہی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے صحت کے شعبے میں حکومت سندھ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز (این آئی سی وی ڈی) میں اب تک 47 لاکھ 40 ہزار 941 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سندھ سے 41 لاکھ 84 ہزار 950، بلوچستان سے تین لاکھ 86 ہزار، خیبر پختونخوا سے 42 ہزار 637، پنجاب سے ایک لاکھ 19 ہزار 88، آزاد جموں و کشمیر سے 3 ہزار 782 اور گلگت بلتستان سے 3 ہزار 516 مریض شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سندھ کے سرکاری اسپتال صرف سندھ کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے زیر انتظام اسپتالوں میں مریضوں کا علاج ان کے شناختی کارڈ یا صوبائی وابستگی دیکھ کر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر پاکستانی کو بلاامتیاز علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب خلیجی ممالک، خصوصاً دبئی سے طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی آیا کرتے تھے، جبکہ جامشورو کی جامعات میں آج بھی بین الاقوامی طلبہ کے لیے مخصوص انٹرنیشنل ہاسٹل موجود ہے، جو سندھ کی تعلیمی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی کی معاشی زبوں حالی کا آغاز ماضی کی غلط پالیسیوں سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کبھی پاکستان کا صنعتی مرکز تھا، جہاں بڑی صنعتیں قائم تھیں، مگر بعد ازاں سازش کے تحت صنعتوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بار بار کی ہڑتالوں، صنعتی عدم استحکام اور خراب حالات کے باعث مزدور فیکٹریوں تک نہ پہنچ سکے، جس کے نتیجے میں متعدد صنعتیں بند ہو گئیں یا دوسرے علاقوں میں منتقل ہونا پڑیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ماضی کی تلخیوں میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی تعمیر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں موجود تمام اراکین عوام کے منتخب نمائندے ہیں اور ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ سندھ اسمبلی کے وقار اور بالادستی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے اپوزیشن اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ صرف سیاسی جماعتوں کے نمائندے نہیں بلکہ اس صوبے کے ’’برانڈ ایمبیسیڈر‘‘ اور ’’مارکیٹنگ مینیجر‘‘ بھی ہیں، اس لیے سندھ اور کراچی کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں روزانہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے کراچی کے بارے میں صرف منفی تاثر پیش کرتی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہر روز دنیا کو یہ بتایا جائے کہ کراچی میں صرف مسائل ہی مسائل ہیں تو پھر کون سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کرنے آئے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ ایک زمانہ تھا جب غیر ملکی شہری کراچی کی سڑکوں پر آزادانہ گھومتے تھے، لیکن بعد ازاں اس شہر کی منفی تشہیر کی گئی، جس سے اس کی ساکھ متاثر ہوئی۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ پر تنقید کرنا ہر کسی کا حق ہے، لیکن ایسی تنقید جس سے پورے شہر اور صوبے کی بدنامی ہو، درحقیقت اپنے ہی عوام اور اپنے ہی ووٹرز کے مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم واقعی کراچی اور سندھ سے مخلص ہیں تو ہمیں اس کی منفی تشہیر سے گریز کرتے ہوئے ترقی، سرمایہ کاری اور مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بارش کسی بھی شہر میں ہو تو معمول کی خبر سمجھی جاتی ہے، لیکن کراچی میں بارش ہوتے ہی کئی کئی گھنٹے مسلسل منفی نشریات چلائی جاتی ہیں، جس سے شہر کا غیر حقیقی تاثر دنیا کے سامنے پیش ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہر سے محبت کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے بجائے اس کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کیا جانا چاہیے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایوان میں بعض اراکین نے خاندانی سیاست پر تنقید کی، لیکن کسی نے اس حقیقت کا ذکر نہیں کیا کہ کرشنا کماری جیسے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی خاتون بھی پاکستان کی سینیٹ میں خدمات انجام دے رہی ہیں، جو پاکستان پیپلز پارٹی کے مساوی نمائندگی کے نظریے کا عملی ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں شیشہ کلچر جاری ہے، جبکہ سندھ میں اس پر پابندی عائد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر سیس ٹیکس کی مد میں تقریباً دو سو ارب روپے وفاقی حکومت کے پاس واجب الادا ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ چونکہ ان کی جماعتیں وفاقی حکومت کا حصہ ہیں، اس لیے وہ سندھ کے ان جائز مالی حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز اٹھائیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت سندھ کے تمام محکموں کے دروازے اپوزیشن کے لیے کھلے ہیں اور اگر وہ عوامی مفاد میں تجاویز دینا چاہیں تو حکومت ان کا خیرمقدم کرے گی۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ روایتی سیاسی بیانات، جلسوں اور روزانہ کی منفی پریس کانفرنسوں کے ذریعے کراچی اور سندھ کی بدنامی کرنے کے بجائے صوبے کی ترقی، سرمایہ کاری اور خوشحالی کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر تعمیری کردار ادا کریں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button