اہم خبریںپاکستانحالات حاضرہصحت

تعلیم اور صحت کے شعبے اب بھی سنگین چیلنجز سے دوچار ہیں، سلیم مانڈوی والا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پیر کے روز PEI کے تعاون سے جناح ہسپتال کراچی کی انتظامیہ کے حوالے طبی و جراحی سامان، مریضوں کے بستروں اور دیگر ضروری آلات پر مشتمل ایک بڑی امداد فراہم کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے اب بھی سنگین چیلنجز سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے 50 اسکولوں کو بہتری اور مؤثر فعالیت کے لیے اختیار کیا ہے، اور یہ منصوبہ اس وقت تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

سینیٹر مانڈوی والا نے مزید بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں لیاری ہسپتال کا دورہ کیا جہاں سہولیات مؤثر انداز میں فراہم کی جا رہی تھیں اور مریضوں نے دستیاب سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو تعاون اور معاونت کی ضرورت ہے، اور ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو غربت کے خاتمے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی نوعیت کی کوششوں کا دائرہ بلوچستان تک بھی بڑھایا جائے گا۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ عطیات اداروں کی ضروریات کے مطابق ہونے چاہئیں اور انہیں عوامی مفاد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام سیاسی مفادات کے بجائے عوامی خدمت کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی ترقی کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں اور عوام کو چاہیے کہ وہ صرف اداروں پر تنقید کرنے کے بجائے بہتری کے عمل میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ مثبت اور تعمیری تنقید کا خیر مقدم کیا جاتا ہے، تاہم غیر منصفانہ تنقید اور امتیازی رویوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین نے کہا کہ عطیہ کیے گئے آلات کی مکمل فہرست فراہم کر دی گئی ہے اور شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے ان کے استعمال کی نگرانی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی امور اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کی ذمہ داری ہسپتال انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
پی ئی آئی کے ڈائریکٹر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بروقت اور نہایت ضروری ہے، اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے خصوصاً پسماندہ اور کم سہولیات والے علاقوں میں اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button