اہم خبریںپاکستان

سندھ میں انسدادِ انتہاپسندی کیلئے نیا مرکز قائم کر دیاگیا ہے، صوبائی وزیر داخلہ

کراچی: وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاءالحسن لنجار کی زیر صدارت سندھ سینٹر فار ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے بورڈ آف گورنرز کا پہلا اجلاس ہوا ، میں صوبے میں پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کیلئے حکمتِ عملی کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے کہاکہ سندھ میں انسدادِ انتہاپسندی کیلئے نیا صوبائی مرکز قائم کر دیا گیا ہے اور مرکز قومی پالیسی NPVE-2024  اور ری وائزڈ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کام کرے گا۔

  کو اجلاس میں پالیسی سازی اور سندھ مخصوص  اقدامات پر  CVE پر  نتہاپسندی کے محرکات پر تحقیق اور شواہد پر مبنی تجزیے کو ترجیح دی جائے گی

انہوں نے کہاکہ پولیس، اداروں اور کمیونٹی اسٹیک ہولڈرز کی خصوصی تربیت اور استعداد کار بڑھانے پر زور دیا۔

ضیاءالحسن لنجار کا کہنا تھا کہ نوجوانوں، خواتین، علما اور اقلیتوں کیلئے امن و مکالمہ پروگرام شروع کئے جائیں گے۔

انتہاپسندی سے متاثرہ افراد کی بحالی اور سماجی ری انٹیگریشن مرکز کی ترجیحات میں شامل ہے۔

مانیٹرنگ، ڈیش بورڈز اور باقاعدہ جائزہ نظام تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مرکز دو ونگز پر مشتمل ہوگا، ریسرچ و کمیونٹی انگیجمنٹ ونگ اور فنانس و آئی ٹی ونگ۔

مرکز کا آغاز پہلے مرحلے میں سندھ کے چھ سے آٹھ اضلاع سے کیا جائے گا۔

دوسرے مرحلے میں پروگرامز کا دائرہ کار سندھ کے تمام اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔

اجلاس میں پانچ سالہ اسٹریٹیجک روڈ میپ کی منظوری دی گئی۔

پہلے سال پلاننگ، دوسرے اور تیسرے سال توسیع جبکہ چوتھے اور پانچویں سال مکمل ادارہ جاتی انضمام ہوگا۔

وزیر داخلہ سندھ نے قومی ترجیحات کے مطابق مربوط اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
سیکریٹری فنانس فیاض جتوئی، سیکریٹری لا، پراسیکیوٹر جنرل سندھ علی احمد بلوچ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ منتظر مہدی، سلیمان ایس مہدی، اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button