
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے 2025کے لئے گندم کے کاشتکاروں کی معاونت کے پروگرام کا جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کسانوں کی فوری معاونت اکائونٹس کی تیز تر فعالیت اور فنڈز کی منتقلی کی ہدایت کی ہے۔ مئی 2024میں حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت ختم کرنے کے فیصلے کے بعد ملک میں گندم کی کاشت کے رقبہ میں نمایاں کمی ہوئی اس کے بعد کسان کی گندم کا 2ہزار روپے میں بھی کوئی خریدار نہیں تھا۔ ماہرین زراعت حکومت کواس خدشہ سے مسلسل آگاہ کر رہے ہیں کہ اگر حکومت نے گندم کی امدادی قیمت مقرر نہ کی تو کسان دوسری نقد آور فصلوں کی کاشت کو ترجیح دے گا اور ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی خدشے کے بعد حکومت کسان کو گندم کی فصل کاشت کرنے کی جانب راغب کرنے کے لئے گندم 35سو روپے خریدنے کا اعلان کیا ہے جو چار سال پہلے 39سو روپے کی امدادی قیمت سے بھی 400روپے کم ہے جبکہ ان چار برسوں میں ڈیزل اور کھاد کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب اور سندھ حکومت نے گندم کے کاشتکاروں کے لئے ارزاں نرخوں ڈی اے پی اور نرم شرائط پر قرض کی متعدد پروگرام متعارف کروائے ہیں مگر کسان کے تحفظات ابھی تک دور نہیں کئے جا سکے۔ کسان تنظیموں کا مطالبہ یہی ہے کہ حکومت کاشتکاروں کو مالی اعانت کی بھیک پر لگانے کے بجائے گندم کی خریداری کی یقین دہانی کروا ئے تاکہ کسان اعتماد اور بھروسے سے گندم کاشت کر سکے۔



