
کراچی: سندھ بورڈز کمیٹی آف چیئر مین کے زیر اہتمام اور اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے اشتراک سے 183 واں انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کے دوروزہ اجلاس مقامی ہوٹل میں شروع ہوگیا ہے، اجلاس میں ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے چیئر مینز ، کنٹرولرز، سیکرٹریز اور مختلف اسٹیک ہولڈرز شریک ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو تھے، وزیر جامعات اسماعیل راہو نے ملک بھر کے امتحانی بورڈ ز میں ڈیجیٹائزیشن ، ای مارکنگ اور جدید امتحانی نظام سے متعلق اہم پروگرام کا با قاعدہ افتتاح کیا۔
اس موقع پر سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ ز ڈیپارٹمنٹ محمد عباس بلوچ کے علاوہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی غلام علی ملاح بھی موجود تھے۔
کراچی: وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈ ز محمد اسماعیل راہو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا اجلاس پاکستان کے امتحانی نظام میں جدت لانے کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔ ہم سندھ کے تعلیمی بورڈ ز میں ایسا امتحانی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو بلکہ شفاف، قابل اعتماد اور مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو۔
ہماری ترجیح ہے کہ ای مارکنگ اور ڈیجیٹائزیشن کو تمام بورڈز میں تیزی سے فروغ دیا جائے ، جدید آلات فراہم کیے جائیں اور ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ اسماعیل راہو نے مزید کہا کہ اس سال سندھ کے تعلیمی بورڈز میں کئی پرچوں کی کامیابی سے ای مارکنگ کی گئی ہے، اور آئندہ سال ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ پرچوں کی ای مارکنگ کی جائے ۔
ہم امتحانی نتائج کو شفاف بنانے، پیپر لیک جیسے مسائل پر قابو پانے اور نقل کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ امتحانی نظام میں بہتری ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں تمام بورڈ ز کا متحد ہونا حوصلہ افزا ہے۔ اجلاس کے صدر اور چیئر مین اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی فقیر محمد لاکھو نے مہمان خصوصی وزیر محمد اسماعیل را ہوا اور سیکرٹری محمد عباس بلوچ کی آمد پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئی بی سی سی کا یہ اجلاس ملک کے تمام تعلیمی بورڈ ز کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے جہاں امتحانی نظام کو بہتر بنانے ، ڈیجیٹل سسٹمز متعارف کرانے اور ای مارکنگ کے فروغ جیسے اہم نکات پر مشترکہ فیصلے کیے جاتے ہیں ۔
جدید امتحانی نظام کی طرف ہمارا سفر تیزی سے جاری ہے، اور اس سلسلے میں سندھ حکومت کی تعاون پالیسی انتہائی قابلِ تعریف ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس اجلاس سے ایسے اہم فیصلے سامنے آئیں گے جو ملک بھر کے امتحانی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کریں گے۔ اجلاس کے دوران امتحانی اصلاحات ، ای مارکنگ کے فروغ ، ڈیجیٹل امتحانی پلیٹ فارمز ، طلبہ کی سہولت سے متعلق اقدامات اور صوبوں کے درمیان کو آرڈینیشن سے متعلق اہم ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ متعدد پالیسی فیصلے بھی متوقع ہیں۔



