
وفاقی محتسب اعجاز احمد قر یشی نے کہا ہے کہ پاکستان کے وفاقی محتسب کو دنیا بھر کے محتسبین میں بہت پذ یر ائی حا صل ہو رہی ہے، اب تک سال 2024ء ایک اہم سال تھا، کیو نکہ اس سال دو لا کھ 26 ہزار371 شکایات میں سے 223171 شکا یات کے فیصلے کئے گئے، تو قع ہے کہ اس سال یہ تعداد اڑ ھا ئی لا کھ سے بڑ ھ جا ئے گی کیو نکہ 15 ستمبر2025ء تک رواں سال کے دوران شکا یات کی تعداد 180,000 سے تجا وز کر چکی جبکہ 176,828 شکا یات کے فیصلے کئے جا چکے ۔ وفاقی محتسب نے ان خیا لا ت کا اظہار گز شتہ روز وفاقی محتسب سیکر ٹیر یٹ میں میڈ یا کے نما ئند وں کیساتھ ایک ملا قا ت کے دوران کیا، انہوں نے کہا حا ل ہی میں مجھے چین کے شہر نا نجنگ میں ایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن کے بو رڈ آ ف ڈا ئر یکٹرز کے 26 ویں سا لا نہ اجلا س اور اس کی جنر ل اسمبلی کے 18 ویں اجلا س کی صدا رت کا اعزاز حا صل ہوا، ان اجلا سوں کے دوران وہا ں انتہا ئی مفید اور نتیجہ خیز سیشن ہوئے،جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد ”عوام النا س کی سہو لت کے لئے محتسب کے اداروں کا کر دار“ کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں ایشیائی خطے اور اس سے باہر کے وفود کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
انہوں نے وفاقی محتسب کے بین الاقوامی کردار کا ذکر کر تے ہو ئے بتا یا کہ ایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن(اے او اے)کے صدر کی حیثیت سے وہ محتسب کے تصور کو ایشیا ء اور دنیا بھر میں عام کر نے کے لئے کو شاں ہیں۔ انہوں نے بتا یا کہ ایشین امبڈ سمین ایسوسی ایشن (اے او اے)47 رکنی غیر سیا سی، جمہو ری اور پیشہ وارانہ مضبوط تنظیم ہے جو دنیا کی تقریباً دو تہائی آ با دی کی نمائندگی کرتی ہے۔ اے او اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں پاکستان کے علاوہ آذربائیجان، چین، ہانگ کانگ، ایران، جاپان، کوریا، تتا رستان اور ترکی کے محتسب کے اداروں کے سربراہان شامل ہیں۔1996ء میں اے او اے کے قیام میں پاکستان اور چین نے بنیا دی کر دار ادا کیا تھا۔ دونوں نے ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر اس کی بنیا د رکھی تھی۔ آپ جا نتے ہیں کہ پا کستان اور چین ایک دوسر ے کے انتہا ئی قر یبی دوست ہیں جو ہر بین الا قوا می فو رم پر ہم آواز ہوتے ہیں۔AOA کے فو رم پر بھی پا کستان اور چین کا تعا ون مثا لی ہے جس کی وجہ سے اے او اے کا ادارہ اب مضبو ط بنیا دوں پر استوار ہو چکا ہے۔ پاکستان، اے او اے کے با نی رکن کے طور پر اس باوقار تنظیم میں ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔AOA کے قیام کے بعد سے اب تک اس کی صدا رت ز یادہ تر پا کستان کے پا س ہی رہی ہے۔ انہوں نے وفا قی محتسب کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتا یا کہ اب تک سال 2024ء ایک اہم سال تھا، کیو نکہ اس سال دو لا کھ 26 ہزار371 شکایات میں سے 223,171 شکا یات کے فیصلے کئے گئے۔ تو قع ہے کہ اس سال یہ تعداد اڑ ھا ئی لا کھ سے بڑ ھ جا ئے گی کیو نکہ 15 ستمبر2025ء تک رواں سال کے دوران شکا یات کی تعداد 180,000 سے تجا وز کر چکی ہے جب کہ 176,828 شکا یات کے فیصلے کئے جا چکے ہیں۔انہوں نے سمندر پا ر پا کستا نیوں کے لئے اٹھا ئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتا یا کہ سال2025 ء کے دوران بیرون ملک پا کستا نیوں کی شکا یات اورپا کستان کے بین الا قوا می ہوا ئی اڈوں پر قا ئم کردہ یکجاسہولیا تی ڈیسکوں کے ذریعے 90 ہزار سے زا ئد شکا یت کنند گان کو سہو لیا ت فرا ہم کی جا چکی ہیں۔وفاقی محتسب نے بتا یا کہ بچوں کے مسا ئل کے حل اور ان کی شکایات کے ازالے کے لئے ایک ہمہ وقتی ”شکا یا ت کمشنر برا ئے اطفال“ کام کر رہا ہے جس کا دفتر بھی اسی بلڈ نگ میں مو جود ہے۔اس سال اب تک بچوں کی 450 شکا یات مو صول ہوچکی ہیں۔



