
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بادل پھٹنے کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے تباہی مچادی، ڈی سی بونیر نے سیلابی ریلوں میں بہہ کر 78 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی جبکہ صوبے میں مجموعی اموات 164 تک جاپہنچی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم کے مطابق بادل پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے سیلاب میں بہہ کر 78 افراد جاں بحق ہوگئے، پہاڑی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا ہے، پانی کی سطح کم ہورہی ہے، اموات کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے، بونیر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے بارشوں اور فلش فلڈ سے مختلف اضلاع میں نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی، پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں مختلف حادثات میں اب تک 146 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوے، جاں بحق افراد میں 126 مرد،8 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 12 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات کے نتیجے میں 35 گھر وں کو نقصان پہنچا،7 گھر مکمل تباہ ہوگئے جبکہ 28 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات باجوڑ، بٹگرام، تورغر، مانسہرہ،سوات، بونیر اور شانگلہ کے اضلاع میں پیش آئے، سب سے زیادہ نقصان ضلع باجوڑ اور بٹگرام میں ہوا جہاں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہیں،
پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ زاہد امداد
ضلع باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں آسمانی بجلی گرنے اور بادل پھٹنے سے آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 21 افرادجاں بحق ہوگئے، جن میں سے 18 کی لاشیں برآمد ہوگئیں، 3 افراد کی تلاش جاری ہے جبکہ 3 افراد زخمی ہوگئے، ایک زخمی کو تشویشناک حالت میں پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی کے مطابق جاں بحق افراد میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، حادثے میں 4 مکان تباہ ہوگئے،امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ پہاڑی تودہ گرنے سے راستے بند ہوگئے تھے جنہیں پیدل مسافت سے عبور کیا گیا، ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری کے ذریعے امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں، فرنٹیئر کور نارتھ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرین کے لیے خیمے اور دیگر ضروری سامان پہنچایا۔
دریں اثنا، حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، جس میں رکن صوبائی اسمبلی انورزیب خان،ڈپٹی کمشنرشاہد علی،اسسٹنٹ کمشنر خار ڈاکٹر صادق علی، قبائلی عمائدین اور مقامی لوگوں نے شرکت کی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق باجوڑ کی تحصیل سلارزئی کے علاقہ جبراڑئی میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ہونے والی طوفانی بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بھاری پہاڑی پتھروں کی زد میں آکر 7 مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے، ملبے تلے دب کر 10 جاں بحق اور کئی لاپتہ ہوگئے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے باجوڑ کی صورتحال کے حوالے سے ہدایات جاری کردیں، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر باجوڑ اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر حکام موقع پر پہنچ گئے ۔
ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جائے وقوعہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر روانہ کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ہدایت کی ہے کہ ریسکیو اور ریلیف کی کاروائیوں کیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، کمشنر ملاکنڈ اور ڈپٹی کمشنر باجوڑ ریسکیو کاروائیوں کی خود نگرانی کریں، وزیراعلیٰ نے تمام ضلعی انتظامیہ خصوصا دیر اور سوات کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اضلاع میں جاری بارشوں اور موسمی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ ہائی الرٹ رہے، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے تمام پیشگی حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
مقامی اطلاعات کے مطابق بٹگرام اور مانسہرہ کے سرحدی گاؤں نیل بند میں بادل پھٹنے کا واقعہ جمعرات کی رات تقریباً 3 بجے پیش آیا، جس کے نتیجے میں 3 سے 4 گھر بہہ گئے۔
ڈپٹی کمشنر اشتیاق احمد کے مطابق باڈل پھٹنے سے مجموعی طور پر 21 افراد جاں بحق ہوئے، کلاوڈ برسٹ کا واقعہ ضلع مانسہرہ اور بٹگرام کے سرحدی علاقے ڈھیری حلیم میں پیش آیا، بہہ جانے والی 11 لاشیں نندی ہار خوڑ کے راستے بٹگرام کے شملائی علاقے میں برآمد ہوئیں جبکہ 10 لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو 1122 بٹگرام کے ترجمان کے مطابق ریسکیو حکام کو اطلاع ملی کہ گزشتہ رات یونین کونسل شملائی بٹگرام کے بالائی علاقوں میں بادل پھٹنے اور اچانک سیلاب کے باعث متاثرہ صورتحال پیدا ہوئی۔
متاثرہ دیہات میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو نیل بند، سارم اور ملکال گلی کے قریب واقع ہیں، جو بٹگرام اور مانسہرہ اضلاع کی سرحدی حدود میں آتے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ مقامی افراد اور ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر ٹیمیں موقع پر موجود ہیں،ریسکیو 1122 بٹگرام ڈیزاسٹر ٹیم اور مقامی لوگ سرچ اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
ریسکیو 1122 بٹگرام کا سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم وقفے وقفے سے بارش اور موبائل نیٹ ورک کی تقریباً مکمل بندش کے باعث مواصلاتی رابطے شدید متاثر ہیں، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ادھر مانسہرہ کے علاقے بسیاں میں گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، ریسکیو1122 کنٹرول روم کو اطلاع موصول ہوتے ہی غوطہ خور ٹیم فوری طور پر جائے حادثہ پر روانہ ہوئی۔
گاڑی میں 6 افراد سوار تھے جن میں سے 3 کو موقع پر زندہ بچا لیا گیا تاہم 2 افراد 30 سالہ میر اور 25 سالہ اسد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔
مانسہرہ میں بٹل پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع گاؤں ڈھیری حلیم میں 15 مکانات لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر تباہ ہوگئےجس کے نتیجے میں 35 افراد ملبے تلے دب گئے۔
دریں اثنا، دیر لوئر کے علاقے میدان سوری پاؤ میں مکان کی چھت گرنے سے بچوں اور خواتین سمیت کئی افراد ملبے تلے دب گئے ، ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق ریسکیو ٹیم شدید بارش، سیلابی ریلوں دشوار گزار اور خراب راستے کے باجود 3 گھنٹے کا راستہ پیدل طے کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
ریسکیو 1122 اور مقامی لوگوں نے اب تک 7 افراد کو ملبے تلے سے نکالا، جن میں سے 5 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے۔
دریں اثنا، سیلاب سے متاثرہ سوات اور باجوڑ میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہیے۔پاک فوج کی ٹیمیں متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
باجوڑ میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے جبکہ راشن اور ادویہ کی فراہمی بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر کی جا رہی ہے، پاک فوج کی ٹیموں کے آتے ہی پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلند ہوگئے۔
پاک فوج کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ تمام سیلاب زدگان کو بحفاظت ریسکیو کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے تک آپریشن جاری رہے گا۔



