اہم خبریںبزنسپاکستان

پائلر کے بانی و سماجی کارکن کرامت علی کی پہلی برسی پر آرٹس کونسل میں تقریب کا انعقاد

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائیلر) کے زیرِ اہتمام معروف سماجی کارکن کرامت علی کی پہلی برسی کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس  میں  معروف لیبر رہنما حبیب الدین جنیدی، ڈاکٹر جعفر احمد ، ڈاکٹر ایوب شیخ ،  عالمی شہرت یافتہ آرٹیسٹ اور سماجی رہنما شیما کرمانی، ایم کیو ایم پاکستان کی سینئر  رہنما  نسرین جلیل سمیت معروف سماجی کارکن اور یونین رہنماؤں نے شرکت کی۔ تعزیتی ریفرنس  میں اظہار خیال کرتے ہوئے  ڈاکٹر جعفر احمد نے کہاکہ   کرامت علی  ایک ہمہ جہت انسان تھے،    ان کی  شخصیت اور  ان کے کام کے بہت سے پہلو تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ   کرامت علی  کا جو بنیادی وصف  تھا وہ ان کا ایک انقلابی نظریاتی انسان ہونا تھا ،  اسی نظریے کے حوالے سے وہ ٹریڈ یونین میں آئے،  اسی کے حوالے سے وہ مزدور تحریک کے ایک رہنما بنے۔  اسی نظریے کے حوالے سے انہوں نے امن کی بات کی،  انہوں نے  جمہوریت کی بات کی  اور  پسماندہ طبقات ، خواتین کے حقوق ، اقلیتوں کے حقوق کی بات کی ۔ انہوں نے مزید کہاکہ  کرامت  علی  کی زندگی کے جتنے بھی زاویے ہیں، جتنے بھی پہلو ہیں،  ان سب کا ایک ہی مرکز ہے اور وہ ان کا ایک اشتراکی انقلابی نظریہ ہے۔ ڈاکٹر جعفر احمد کا مزید کہنا تھا کہ  پاکستان اور جنوبی ایشیا کی حد تک ان کا کام اور بھی زیادہ معنی خیز تھا ۔   انہوں نے ادارہ سازی اور کانفرنسز  بھی کیں۔ کرامت  علی  نے ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش ،سری لنکا ان تمام ممالک کی امن سے وابستہ تنظیموں  کی نیٹ ورکنگ میں بڑا اہم کردار ادا کیا ۔ وہ   باقاعدگی سے ان اداروں میں جایا کرتے تھے،  ان کو پاکستان مدعو کیا کرتے تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قمر الحسن نے کہاکہ کرامت  علی نے ٹریڈ یونینز کے حوالے سے  جنوبی ایشیا کی ایک  ایسی کانفرنس کی جس میں امن ایک بنیادی موضوع تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ کرامت علی  نے جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی  اپنی زندگی میں وہ ورکرز اور ٹریڈ یونینز کی ایجوکیشن تھی ۔ اسی طریقے سے انہوں نے بنیاد رکھی جو ورکرز اور ٹریڈ یونینز کو سکھائے ، کرامت علی  ہر شعبے میں مہارت رکھتے تھے ،  وہ  ٹریڈ یونینز ایجوکیشن جو اہمیت دیتے تھے۔  اس موقع پر  کرامت علی  کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلئے ان کے نواسے شہریار  اور آلیان  نے فیض احمد فیض کی نظم پیش کی۔ بعد ازاں تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ریاض احمد شیخ نے کہاکہ کرامت علی کی  ایک عالمی شناخت تھی اور وہ  رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ جب جب محنت کشوں کی بات ہوگی،  کرامت علی  کا نام سب سے اوپر رہے گا۔ کرامت  علی  ایک ذات ، ایک مذہب ، ایک معاشرے ، سب کے لیے لڑے، اس خطے پر سانس لیتی ہوئی چیز کا کوئی حق ہے،  یہ کرامت علی  نے ہمیں  بتایا ،  ہمیں کرامت علی  جیسے لوگوں کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے لوگوں کو حق حاصل کرنا سیکھایا ۔ انہوں نے کہاکہ اس جنگ کے دور میں ہمیں کرامت علی  کی ضرورت ہے ،  کرامت علی  بہتا ہوا علم تھے ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button