انٹر نیشنلاہم خبریںپاکستان

امریکہ کے یوم آزادی پر اسلام آباد امریکی سفارتخانہ میں شاندار تقریب کا انعقاد، وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت

اسلام آباد: ریاستہائے متحدہ امریکہ کے قومی دن کے موقع پر ایک شاندار تقریب کا اہتما کیا گیا۔ جس سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے اپنے خصوصی خطاب میں پاک امریکا تعلقات پر روشنی ڈالی۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ سب کو آج یہاں خوش آمدید کہتے ہوئے مجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ امریکی حکومت اور عوام کی جانب سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اعلان آزادی کی ۲۴۹ویں سالگرہ پر آپ سب کو آج یہاں خوش آمدید کہتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
آج کی رات آپ سب کی یہاں پر تشریف آوری کا بہت شکریہ، خاص طور پر ہمارے مہمانِ خصوصی وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف ،تمام معزز پاکستانی دوستوں اور شراکت داروں کو بھی خوش آمدید ۔آج کی اس تقریب میں آپ کی موجودگی ہمارے لیے باعث افتخار ہے ۔


جیسا کہ آپ میں سے بہت سےاحباب جانتے ہیں کہ اسلام آباد میں یہ میری دوسری سفارتی تعیناتی ہے۔ اپنے پیشہ ورانہ سفر کے آغاز میں بھی میں یہاں پر خدمات سرانجام دےچُکی ہوں۔ یہاں پر وہ سب چیزیں اب بھی نہیں بدلیں جو پاکستان کو ایک منفردمُلک بناتی ہیں ، مثال کےطور یہاں کے لوگوں کی گرمجوشی، مہمان نوازی سے بھرپور ثقافت ، کرکٹ اسٹیڈیم میں گونجتی آوازیں اور صدیوں پرانی دستکاری کو شاندار اور خوبصورت جدید ڈیزائن سے جوڑنے والا پاکستانی فیشن ۔ اس کے علاوہ میں نے اس دوران امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی گہرائی اور تحرک میں شاندار وسعت دیکھی ہے۔ گزشتہ سال اگست میں اسلام آباد واپسی کے بعد میں نے لازوال دوستی اور باہمی شراکت کے جس بندھن کا مشاہدہ کیا وہ میں نے سوچا بھی نہ تھا۔ میرے لئے یہاں واپسی باعث افتخارہے اور اس کیلئے میں شکر گزار ہوں۔ اور میں پاکستان کے عوام اور قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے فخر محسوس کر رہی ہوں۔
دو سو انچاس سال قبل تھامس جیفرسن نے ایسے الفاظ تحریر کئے تھے جنہوں نے تاریخ کادھارا ہمیشہ کے لیے تبدیل کردیا ۔ انہوں نے لکھا تھا کہ :”ہم اس حقیقت کو خود پر واضح سمجھتے ہیں کہ تمام انسانوں کو برابر تخلیق کیا گیا ہے”۔ اُن کے اس جراتمندانہ اعلان سے ایک ایسے سفر ، اور ایک ایسے عزم ، کا آغاز ہوا جس کی تکمیل کے لیے امریکی عوام نے ہمیشہ جدوجہد کی ہے۔
اگر گہرائی میں جائیں تو چار جولائی محض آزادی کا جشن منانے کا دن ہی نہیں ہے، بلکہ یہ آزادی، مساوات، خود مختاری اور حُصولِ مسرت جیسی دائمی اقدار کی توثیق کرنے کا موقع ہے ۔ یہ اقدار ہماری رہنمائی کرتی ہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے ساتھ ہماری شراکت داری کی بنیاد بھی یہی اصول ہیں۔ یہ وہ اقدارہیں جو ہمارے عوام اور معاشروں میں مشترک ہیں۔
امریکہ پاکستان کی آزادی کو تسلیم کرنے والے اولین ملکوں میں شامل تھا۔ ۱۹۴۷ء سے شروع ہونے والا ہماری دوستی کا یہ رشتہ اب شراکت داری میں بدل گیا ہے، جس کی بنیاد اس مشترکہ یقین پر ہے کہ سب انسانوں کو جینے، آزادی اور مواقع تک رسائی کا حق حاصل ہونا چاہئے۔


گزشتہ ۷۸ برسوں کے دوران ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پاکستان نے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کیلئے شانہ بشانہ کام کیا ہے۔ چاہے یہ ہسپتالوں اور کلینک میں کام کرنا ہو یا کمرہ جماعت اور تحقیقی لیبارٹریوں میں جدید تحقیق، پاکستان کے کاشتکاروں کی معاونت ہو یا بزنس انکیوبیٹرز کی معاونت یا پھر قدرتی آفات کے بعد بحالی کی جدوجہد میں مصروف آبادیوں کی مدد، ہم ہر اچھے اور برے وقت میں شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ ہمارے ساتھیوں، حکومتوں اور شراکت داروں کی انتھک کاوشوں کی بدولت امریکہ اور پاکستان نے لاکھوں بچوں کی تعلیم تک رسائی کو بہتربنایا، حفظان صحت کے نظام کی مضبوطی، غذائی قلت کے خاتمہ ، بیماریوں کی روک تھام ، کلیدی اہمیت کے حامل بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، کسانوں کی پیداوار میں اضافہ اور ذاتی کاروبار کے خواہاں افراد کو تجارت کے آغاز میں معاونت فراہم کرنے کیلئے مل کر کام کیا ہے۔
اب جبکہ ہم امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی( یو ایس ایڈ) اور دیگر ترقیاتی معاونت کے منصوبوں کو امریکی محکمہ خارجہ میں شامل کرنے جا رہے ہیں، میں پاکستان میں یو ایس ایڈ کے ساتھیوں کی اُن کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گی جو پاکستان کی آزادی کے ابتدائی دنوں سے لیکر آج تک ترقی کی غماز ہیں۔ یو ایس ایڈ کی ٹیم کی جانب سے قائم کردہ اس شراکت داری نے انسانی زندگیاں بچانے، لوگوں تک بنیادی سہولتوں کی رسائی اور بہترمستقبل کی تعمیر سے کمیونٹیز کو بااختیار بنانے میں معاونت کی ہے۔ یہ میراث پاکستان کے مستقبل پر مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کرے گی۔ آئیں، اورمیرے ساتھ مل کر اپنے اُن ساتھیوں کی لگن اور خدمات کو خراج تحسین پیش کریں۔
ہمارا سیکورٹی اور دفاعی تعاون طویل عرصے سے ہماری شراکت داری کا ستون رہا ہے۔ کئی دہائیوں سے ہماری فوجوں نے مل کر تربیت حاصل کی ، مل کر کام کیا اور دہشت گردی سے علاقائی عدم استحکام کو درپیش مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ساتھ کھڑی ہیں ۔ امریکی اور پاکستانی افسران ہمارے فوجی اداروں سےساتھ ساتھ فارغ التحصیل ہوئے ہیں اور باہمی احترام اور پیشہ ورانہ مہارت کےمشترکہ عزم کے پیکر ہیں۔
مشترکہ مشقوں، پیشہ ورانہ استعداد کو فروغ دینے والی سرگرمیوں اور عسکری تعلیمی تبادلوں کے ذریعے ہم نے نہ صرف اپنی قوموں بلکہ وسیع تر خطے کی سلامتی کو بہتر بنایا ہے۔ خواہ وہ قدرتی آفات پر ردعمل دینا ہو یا پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ ، ہم نے اعتماد کا ایک ایسا فریم ورک تشکیل دیا ہے جو زندگیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
دونوں ممالک کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں اپنے امریکی، پاکستانی اور اتحادی افواج کے ممبران کی لگن، قربانی اور مشترکہ مشن کا اعتراف کرتے ہوئے میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ، یہ ہماری قابل فخر میراث ہے۔ براہ مہربانی میرے ساتھ مل کر ان کی شاندار خدمات اور امن و سلامتی کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو خراج تحسین پیش کریں۔
اس سال کے دوران واضح ہو گیا کہ جب ہمارے دونوں ملک باہمی اعتماد اور نیک نیتی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔


چند ماہ قبل پاکستان کی جانب سے داعش کے دہشتگرد، جو افغانستان میں ایبےگیٹ حملے کا منصوبہ ساز تھا، جس میں تیرہ امریکی فوجی اور ۱۶۰ سویلین لوگ جاں بحق ہوگئے تھے، کی گرفتاری اور حوالگی انسداد دہشت گردی میں ہمارے باہمی تعاون میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تعاون کے عظیم ثمرات برآمد ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی عسکری اور فوجی حکام کی رہنمائی اور عزم کی بدولت دہشت گرد وں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے مارچ میں کانگریس سے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستانی قیادت کی بہادری اوردانشمندی نے ہماری دونوں قوموں کو مزید محفوظ بنا دیاہے۔
معیشت کے میدان میں بھی ہم مِل جُل کر نئے افق تلاش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی اور پاکستانی رہنما ؤں نے پائیدار ترقی اور صنعتی جدت کے مشترکہ وژن کے ساتھ پاکستان کریٹیکل منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی۔ یہ اس بات کا ایک متاثر کن مظاہرہ تھا کہ ہماری شراکت داری کس طرح خوشحالی کو فروغ دے سکتی ہے۔میں ذاتی طور پر کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل مارکیٹوں میں ہماری مشترکہ سرمایہ کاری پر بہت خوش ہوں اور میں اختراع، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اسپیس میں نئی راہیں ہموار کرنے میں پاکستان کے شاندار قائدانہ کردار کی معترف ہوں۔
سفارتی میدان میں ہمارے تعاون نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں مدد دی، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ جب ہم ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو مستقل تنازع کی صورتحا ل میں بھی امن کا راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور امن کے راستہ کا انتخاب کرنے کے عزم پر صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا خراج تحسین میں اس موقع پر دہرانا چاہتی ہوں۔ آپ کا نصب العین تبدیلی کی جانب گامزن اور ہمارے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچا رہا ہے۔ ہم مل کر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو نئی سرحدوں پر لے جائیں گےجس میں سلامتی، تجارت، ثقافت، کرکٹ، تعلیم اور بہت کچھ شامل ہے۔اور اس کی کوئی حد نہیں ۔
اگر ہم افق کو دیکھیں تو میں اب بھی بہت زیادہ گنجائش دیکھ سکتی ہوں۔امریکہ تجارت، سرمایہ کاری ، جدت ، کھیلوں، ثقافت اور دیگر متعدد شعبوں میں پاکستان کوکامیاب بنانے میں معاونت کے عزم پر کاربندہے۔
ہم بہترین امریکی مصنوعات پاکستان میں لانے پر یقین رکھتے ہیں، جس میں ہماری بین الاقوامی معیار کی ٹیکنالوجی، ذاتی کاروبار کا نصب العین ،ہماری تدریسی اور تحقیقی مہارت شامل ہے۔ امریکہ لوگوں کو بااختیار بنانے اور منڈیاں کھولنے میں یقین رکھتا ہے۔ ہم ڈیجیٹل روابط استوار کرنے، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی تلاش اور منڈیوں میں مارکیٹ کا ایک ایسا ماحول پیدا کرنے میں یقین رکھتے ہیں جو امریکی مصنوعات اور خدمات، سرمایہ کاری اور ترقی کا خیرمقدم کرے ، اور یہ اقدامات ہمارے دونوں ملکوں اور شہریوں کی خوشحالی کو فروغ دینے کا باعث بنیں۔
ہم مل کراس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہماری شراکت داری کا اگلا باب باہمی طاقت، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کا حصول اور مواقع کا قیام ہو۔
آج کی اس تقریب میں ہم ایک منفردامریکی روایت، جو دیہی رنگ لئے ہوئے ہے، منا رہے ہیں۔ وسیع آسمانوں سے لیکر جراتمندانہ خوابوں تک، کاؤ بوائے بوٹس سے لیکر بیک یارڈ باربی کیو کی روایات پر مبنی ہماری تقریب امریکہ کے سرحدی علاقوں کے اس جذبہ کا احترام ہے جس میں جانبازی، استعداد اور بے انتہا امکانات موجود ہوتے ہیں۔
آج کی رات زندگی کے ہر شعبہ سے وابستہ مہمانان گرامی کی یہاں موجودگی میرے جذبےکو مہمیز دے رہی ہے، جن میں سرکردہ کرکٹرز، مشہور فیشن ڈیزائنرز اور فنکار، متاثر کن فکری رہنما، سماجی اثر و رسوخ کے حامل افراد ، صحافی، موسیقار، کاروباری شخصیات اور دور اندیش رہنما شامل ہیں۔آپ سب سے ملنا اور اور بہت سے افراد کے ساتھ وقت گزارنا ، خواہ آپ کے گھروں میں یا دفاتر میں اور کرکٹ اسٹیڈیم میں حوصلہ افزائی کرنا ،میرے لیے باعث اعزاز ہے ۔ میں باہمی تعاون اور ہمارے معاشروں کی قربت کے مزید مواقع کے لیے منتظر رہوں گی۔
اور ہاں کوئی بھی جشن پکوان کے بغیر ادھورا ہوتا ہے اور آج رات کا جشن بھی ہمارے سرپرستوں کی جانب سے فراخدلانہ تعاون کے بغیر ممکن نہ ہوتا۔ اسلام آباد میں امریکی کھانوں کا ذائقہ بانٹنے میں ہماری معاونت کا شکریہ۔ ہیمبرگر سلائیڈرز سے لیکر چھوٹے آڑو تک، آج کے پکوانوں کی فہرست امریکی روایتی دسترخوان کے راحت بخش اور تخلیقی انداز کی عکاس ہے۔ ہر کھاناہماری روایتی خورونوش کا اظہار ہے، بشمول بیک یارڈ بار بی کیو، جو آج کی خصوصی شام گرمجوشی، ذائقے اور جشن آزادی کے دن دوستوں اور رشتہ داروں کی محفلوں میں پیش کیے جانے والی خالص امریکی روایتوں کا احساس دلا رہا ہے۔
جیسا کہ کھانے کی طرح موسیقی بھی لوگوں کو اکٹھا کرتی ہے ، میں امید کرتی ہوں کہ آپ امریکی ائیر فورس کے موسیقار بینڈ کے سُروں سے لطف اندوز ہوں گے۔ میں اس بینڈ کو امریکہ کا انداز اسلام آباد لانے پر اُن کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔
اس جشن کا اہتمام کرنے والی کمیٹی کو بھی دل کی گہرائیوں سے داد پیش کرتی ہوں۔ آج کا جشن کئی ماہ کی پس پردہ منصوبہ بندی اور طویل محنت کا غماز ہے۔
اور امریکی مشن کی ہماری تمام کمیونٹی ، خاص طور پر وہ لوگ جو چار جولائی کا جشن اپنے پیاروں سے دور منا رہے ہیں، آپ کی خدمات اور لگن کو بیحد قدر کی نظرسے دیکھا جا رہا ہے۔ ہر روز غیر معمولی کام کرتے ہوئے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی فخر سے نمائندگی کرنے پر آپ کا شکریہ۔
آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گی کہ آج کی رات ہم صرف ایک بڑا دن منانے کیلئے ہی نہیں جمع ہوئے ہیں بلکہ یہ پاکستان اور امریکہ باہمی دوستی اور شراکت داری کا جشن ہے۔ یہ دونوں قوموں کے درمیان ایسی دوستی ہے جو بہادری کے ساتھ پیش قدمی اور مشترکہ دشواریوں سے نمٹنے میں یقین رکھتی ہے۔
اس موقع پر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے کہے گئے ایک جملہ کا حوالہ دوں گی کہ :ہمارا تعلق بہت اچھا ہے اور اس کا بہترین ہونا ابھی باقی ہے۔
وزیر اعظم نواز شہباز اور ہمارے تمام عزیز پاکستانی دوستوں اور ساتھیوں کا شکریہ کہ انہوں نے آج رات ہمارے ساتھ جشن منایا ۔ آپ ہم امریکیوں کے لیے اپنے گھروں اور دل کے دریچے وا رکھتے ہیں ۔ آج رات ہمارے ساتھ جشن منانے کے لئے موجود ہمارے تمام دوستوں کا شکریہ۔ یوم آزادی مبارک ہو۔ دعا ہے کہ امریکہ اور پاکستان پھلتے پھولتے رہیں۔ خدا پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ خدا امریکہ پر اپنی نوازشیں فرمائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button