
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزیرِ اعظم ہاؤس میں اہم اجلاس ہوا، جس میں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں پر من و عن عملدرآمد پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اور سیکیورٹی حکام نے شرکت کی۔ مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ عوام بہادر مسلح افواج کے پیچھے کھڑے ہیں۔
واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھارتی فوج نے بزدلانہ حملہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے علاقوں کوٹلی، مظفر آباد اور باغ کے علاوہ مریدکے اور احمدپور شرقیہ میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا جس میں 2 مساجد شہید ہوئیں جبکہ حملوں میں 2 بچوں سمیت 31 پاکستانی شہید اور 51 زخمی ہوئے تھے۔
پاکستان پر حملہ کرنے والے 3 رافیل، ایک مگ-29 اور ایک ایس یو-30 طیارے کے ساتھ ساتھ ایک کومبیٹ ڈرون بھی مار گرایا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کی مسلح افواج کو مناسب کارروائی کے مکمل اختیارات دیے گئے تھے۔
اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت پاکستان کو اپنے دفاع میں جواب دینے کا حق حاصل ہے، پاکستان کسی بھی وقت، جگہ اور طریقے سے اپنے معصوم شہریوں کی شہادت کا بدلہ لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کا بدلہ لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، پوری قوم کسی بھی جارحیت کے خلاف یکجہتی اور استقامت سے کھڑی ہے۔



