
کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل اسکاٹ اربام نے حیدرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سرکاری عہدیداروں، نوجوانوں، تعلیمی رہنماؤں، کاروباری برادری کے اراکین، اور امریکی حکومت سے وابستہ عوامی سفارتکاری پروگرام کے گریجویٹس سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط تعلقات اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
دورے کے دوران، قونصل جنرل اربام نے پاکستان-امریکہ المنائی نیٹ ورک کی ایک ملاقات میں شرکت کی اور سینئر المنائی اراکین سے ملاقات کی۔ اس تقریب میں امریکی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے سماجی اور تعلیمی تبادلہ کے پروگراموں کے مثبت اثرات کو اجاگر کیا گیا اور المنائی نیٹ ورک کی قیادت میں جاری مختلف منصوبوں کی کارکردگی کو سراہا گیا، جو کہ اقتصادی ترقی، عوامی تحفظ، اور نوجوانوں کی شمولیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس موقع پر اربام نے کہا، “جامشورو کے المنائی اپنے خیالات کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔ یہ افراد امریکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ گرانٹس کے ذریعے ٹیکنالوجی سے وابستہ پروگرام ترتیب دے کر سماجی صحت اور تحفظ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور سائنسی بنیادوں پر مسائل کا حل فراہم کر کے پسماندہ طبقات کو بہتر مواقع فراہم رہے ہیں تاکہ وہ ترقی کر سکیں۔”

قونصل جنرل اربام نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد میں انگلش ایکسس اسکالرشپ پروگرام کی اختتامی تقریب میں بھی شرکت کی۔ دو سالہ اس پروگرام نے 75 طلباء کو انگریزی زبان کی مہارتوں کے علاوہ تنقیدی اور ثقافتی سوچ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس موقع پر اسکاٹ اربام نے کہا، “تعلیم کے شعبے میں اس نوعیت کی سرمایہ کاری کے ذریعے، امریکہ پاکستان میں طویل مدتی استحکام اور خوشحالی کو فروغ دے رہا ہے۔”

حیدرآباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے ملاقات کے دوران، قونصل جنرل نے علاقے کی زرعی، اور کاروباری صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے امریکی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی بات کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
قونصل جنرل اربام نے شمس العلماء علامہ داؤد پوتہ لائبریری میں قائم لنکن کارنر حیدرآباد میں طلباء سے ملاقات کی اور بیس بال اور کرکٹ کے ذریعے کھیلوں کی سفارتکاری کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔

قونصل جنرل کا یہ دورہ تعلیم، اقتصادی شمولیت، اور نچلی سطح تک کمیونٹیز کو بااختیار بنانے میں امریکہ-پاکستان تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے — یہ ایسی سفارتی ترجیحات ہیں جو دونوں ممالک کو زیادہ محفوظ، مضبوط، اور خوشحال بناتی ہیں۔



