
اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جاری خونریزی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بے دریغ خلاف ورزیوں پر عالمی ضمیر پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا تمام انسانوں کے ساتھ یکساں سلوک نہ کر کے سب سے بڑی غلطی کر رہی ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے انسانی حقوق کے حوالے سے ترقی کر رہا ہے لیکن انسانیت اب بھی طاقتور ممالک کی طرف سے فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کرنے کی منتظر ہے جہاں ہزاروں افراد کو قتل کیا گیا جن میں خواتین اور بچوں کی نمایاں تعداد ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دنیا میں ایسا ماحول ہو جہاں جنگوں کی کوئی گنجائش نہ ہو اور انسان دوستی ذاتی مفادات پر غالب ہو ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مہذب جنگوں کے بیانیے کو فروغ دینے کے بجائے دنیا میں جنگ نہ ہونے کے ہدف کو آگے بڑھانا چاہیے۔
عارف علوی کا کہنا تھاکہ انسان دوستی کو عالمی معاملات میں طاقت ور قوموں کے خود غرضانہ جوازوں پر مبنی جنگوں کا باعث بننے والے ذاتی مفادات کے مقابلے میں تقویت نہیں مل سکتی۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک بہترین قانون ساز ملک ہے جس میں انسانی حقوق کے حوالے سے آئین اور انسانی حقوق کے اعلامیے کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے قانونی انصاف، مالی مساوات، بااختیار بنانے اور خواتین کو مرکزی دھارے میں لانے کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں سے یقینی بنانے کے عزم پر زور دیا۔



