
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بیگم کی کسی بھی مقدمے میں گرفتاری اور طلبی سے روکنے کی درخواست پر اعتراض عائد کر دیا۔
بشریٰ بیگم آج صبح اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچیں، جہاں انہوں نے درخواست دائر کرنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کروائی اور پھر وہاں سے روانہ ہو گئیں۔
بعد ازاں بشریٰ بیگم نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔
بشریٰ بیگم نے اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ تمام اداروں سے مقدمات کی تفصیلات طلب کی جائیں، اس درخواست پر فیصلہ آنے تک کسی بھی مقدمے میں گرفتاری یا طلبی سے روکا جائے۔
بشریٰ بیگم نے درخواست میں سیکریٹری قانون، سیکریٹری داخلہ، ایف آئی اے، نیب، اینٹی کرپشن اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے بشریٰ بیگم کی درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بغیر کسی ایف آئی آر کے ضمانت کی درخواست کیسے قابلِ سماعت ہے؟ بغیر تفصیل کسی مقدمے میں کیسے ضمانت دی جا سکتی ہے؟



