
پشاور: پاکستان میں غیر قانونی مقیم غیرملکیوں کےلیے رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کی 31اکتوبرکی ڈیڈلائن کا کل آخری دن ہے جس کے باعث طورخم بارڈر کے ذریعے واپسی کے عمل میں تیزی آگئی ہے‘.
طورخم بارڈر کے راستے یکم سے 23 اکتوبر 2023کے درمیان33ہزار 555 غیر قانونی تارکین وطن اپنے آبائی ملک چلے گئے ہیں‘طورخم بارڈر پر رضاکارانہ واپسی کے لیے غیر قانونی مقیم افغانوں کا رش لگ گیا۔
ذرائع کے مطابق مختلف آبادیوں میں اسکیننگ اور غیر ملکی افراد کی میپنگ آخری مراحل میں داخل ہو گئی .
غیر ملکی افراد کے پاس موجود دستاویزات کی جانچ پڑتال جاری ہے‘پہلے مرحلے میں دستاویزات نہ رکھنے والوں کیخلاف کارروائی ہو گی۔ گرفتار غیر قانونی غیر ملکیوں کے لیے ہولڈنگ ایریاز اور عارضی کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں دیگر شہروں کی طرح تحصیل گوجرخان اور بالخصوص شہر میں غیر قانونی مقیم افغانوں نےاپنی جائیدادیں فروخت اور دیگر کاروباری معاملات کو سمیٹ کر واپسی کا عمل تیز کر دیا ،پچھلے دو دنوں سے اس وقت تک متعدد افغان خاندان گوجرخان شہر سے واپس افغانستان جانے کے لئے باڈر کی طرف جا چکے ہیں۔
تحصیل جہانیاں میں تھانہ ٹھٹھہ صادق آباد کی حدود میں واقع علاقہ پل114سے گزشتہ شب اٹھارہ افغان باشندوں کو واپس افغانستان بھجوانے کیلئے بذریعہ ٹرک پشاور سے طورخم کی جانب روانہ کر دیا گیا ۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ میں مقیم غیر قانونی غیر ملکیوں کے انخلا کیلئے حکمت عملی تیار کرلی ہے جس کے تحت یکم نومبر سے غیر قانونی غیر ملکیوں کیخلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کا آغاز ہوگا ، جس کیلئے سکیورٹی اداروں کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں تاہم صوبائی حکومت حتمی مشاورت اور ہدایات کیلئے آج وفاق کیساتھ رابطہ کرے گی ۔



