
اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کی حوصلہ شکنی ہماری پالیسی نہیں ہے،تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے ،نگران حکومت شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کی پابند ہے،ہم نے 50 سال 50 لاکھ افغان باشندوں کی مہمان نوازی کی ہے،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔
جمعرات کو یہاں سماء ٹی وی اور اے بی این ٹی وی چینل کو الگ الگ انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ پریس کانفرنس میں میڈیا مالکان ،صحافیوں میڈیا کے بارے میں بات کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا جب میری دلیل کو میرٹ پر سمجھا جائے گا تو بہت سی توانا آوازیں شاید میرے ساتھ ہوں گی،صحافیوں کی تنخواہوں اور اشتہارات کے حوالے سے میں نے نگران وزیراعظم بننے کے بعد بات کرنا شروع نہیں کی بلکہ جب میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا رکن تھا تو وہاں پر بھی میں یہ معاملہ اٹھایا کرتا تھا اور صحافی اس بات کو بخوبی جانتے ہیں، میں بھی اس ملک کا شہری ہوں۔
بطور نگران وزیراعظم سیاست اور میڈیا کے حوالے سے ہماری جو ذمہ داری ہے اس میں اگر میں کردار ادا کروں گا تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ،اگر کوئی میرے خیالات پر کوئی بیان جاری کرتا ہے تو میں اس پر کوئی قدغن تو نہیں لگا سکتا ۔میں نے ورکنگ جرنلسٹس کے مسائل کو بھی اٹھایا ہے ۔کنٹریکٹ کے تحت اگر کسی کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں تو ان کا خیال رکھا جانا چاہیے، دوبارہ بھی پریس کانفرنس کی تو الفاظ شاید مختلف ہوں موضوع یہی ہو گا، میں نے ورکنگ جرنلسٹس کے مسائل کو بھی اجاگر کیا تھا اور اشتہارات کے حوالے سے ماڈل کی بات کی تھی اس خیال سے کہ لوگ ناراض ہو جائیں گے ایک صحت مندانہ بحث کو شروع نہ کیا جائے تو میرے خیال میں یہ زیادتی ہو گی ۔
غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ طور خم بارڈر اور چمن بارڈر سے ہزاروں افغان شہری واپس جا چکے ہیں اور وہ رضاکارانہ واپسی پر بھی آمادہ نظر آتے ہیں ،افغان حکومت بھی اپنے شہریوں کو واپس لینے پر آمادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو واپس نہیں بھیجا جائے گا جن لوگوں نے ہمارے شناختی کارڈ،بنا ئے ہوئے ہیں ان کے لیے بھی ایک طریقہ کار بنایا گیا ہے کہ ان کے خلاف کیسے ایکشن لیا جائے گا اور شناخت کے لئے اہم کیسز میں ڈی این اے ٹیسٹ بھی ہو سکتے ہیں تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کوئی غلط اینٹری تو نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ نئے ڈائریکٹر جنرل نادرا کی سربراہی میں کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں وہ پاکستان کا شناختی کارڈ حاصل کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے کام کریں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی سے متعلق ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد چیکنگ ہوگی،چیک پوسٹیں بھی قائم کی جائیں گی لوگوں کی طرف سے بھی معلومات حاصل ہو رہی ہیں اور نشاندہی کے دیگر عوامل پر عمل درآمد کا بھی آغاز ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی اپنے وطن واپس چلے جائیں اور وہاں سے قانونی دستاویزات لے کے پاکستان تعلیم ،کاروبار میڈیکل یا دیگر معاملات کے لیے ویزا لے کے آ سکتے ہیں ہم ویزا رجیم کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے ہم کوئی افغانستان کے ساتھ رشتہ ناطہ توڑنے نہیں جا رہے۔ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا ۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جب یہ افغان مہاجرین یہاں موجود تھے تو اس وقت بھی افغان حکام میں پاکستان کے بارے میں کوئی خوشگوار جذبات نہیں پائے جاتے تھے ہم نے 50 لاکھ لوگوں کی 50 سال ان کی میزبانی کی ہے، افغان عوام بڑی مشکلات کا شکار رہے ہیں اس پر دو رائے نہیں لیکن اس کی مختلف وجوہات ہیں، غیر قانونی افراد کی واپسی کے حوالے سے افغان حکومت بھی انہیں لینے کے لیے تیار ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا نوجوان یہ سوچتا ہے کہ ٹی ٹی پی کی تشکیل افغانستان سے ہو تی ہے اور دہشت گرد خودکش حملہ آور ہماری مساجد اور عبادت گاہوں میں مارے جا رہے ہیں ہمارے سویلینز پولیس اہلکار اور مسلح افواج کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں تو پھر اس چیز کو بھی تو دیکھنا چاہیے کہ وہاں سے ہماری قتل و غارت گری ہو رہی ہے اور یہ مزید قابل قبول نہیں ہے ۔
اگر ہمارے ملک کے شہری بھی افغانستان میں ہیں تو وہ انہیں بھی واپس بھیجیں ہم سمجھتے ہیں کہ اگر وہ غیر قانونی طور پر وہاں پہ مقیم ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تو انہیں وہاں سے بے شک نکال دیں۔ہم افغانستان کے تعلقات کو وسیع البنیاد تناظر میں دیکھ رہے ہیں غیر قانونی مقیم افراد کے لیے فلٹریشن کا ایک پورا عمل ہے، افغانستان سے دہشت گردوں کے حملوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر اقدام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے حملوں کا افغانوں کے واپس بھیجے جانے سے گہرا تعلق ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانا ہے اور لیول پلینگ فیلڈ کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو عوام کے پاس جانے، انتخابی عمل میں حصہ لینےاور امیدوار کھڑا کرنے کا حق ہے اور پھر عوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جس کو چاہے مینڈیٹ دیں ۔
وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی پی ٹی آئی کے لئے ایک چیلنج ہے ، معمول کی سیاسی سرگرمی یا تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ ہونی چاہیے نو مئی کے واقعات کے ملزمان بھی پی ٹی آئی کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ انتظامیہ ان کی شرکت کے حوالے سے انتظامی طور پرکارروائی کرتی ہو، پی ٹی آئی کے جلسوں کو درہم برہم کرنا حکومتی پالیسی نہیں ۔
ہم نے انتخابات کرانا ہے شفاف طریقے سے اور اس کے بعد گھر چلے جانا ہے ۔عوام نے جس کو بھی جس جماعت چاہے مینڈیٹ دینا ہے جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہیے کسی ایک جماعت کے حق میں یا کسی کی مخالفت میں مخالفت نظر نہیں آرہی ،وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حوصلہ شکنی ہماری پالیسی نہیں ہے کسی کی طرف سے بھی کسی کے ساتھ جانبداری کی مجھ سے کوئی بات نہیں کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ لیول پلینگ فیلڈ سے متعلق پیپلز پارٹی سے کئی آوازیں اٹھ رہی ہیں، چھ مہینے پہلےبلوچستان میں پی پی کے لیے ایسا تاثر تھا کہ بلوچستان میں پیپلزپارٹی کے لیے تیاری کی جا رہی ہے ہر سیاسی جماعت الیکشن کے لیے اپنا تاثر بناتی رہتی ہے میں اس چیز کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرے علم میں کوئی ایسی شہادت نہیں ہے کہ جس سے میں اس نتیجے پہ پہنچوں کہ کوئی ادارہ جاتی مداخلت ہو رہی ہو،بلوچستان میں باپ پارٹی کے قیام کے متعلق انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کے الیکٹیبلز کا یہ خیال تھا کہ ہم الگ جماعت بنالیں۔
ن لیگ سے علیحدگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اقلیتی پارٹی کے رکن کو وزیر اعلی بنا دیا گیا تھا،الیکشن کمیشن نے الیکشن کنڈکٹ کرنا ہے ہم نے ساتھ دینا ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین کے مستقبل سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ ان کے مستقبل کا انحصار عدالتی فیصلوں پر منحصر ہے، انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی پارلیمنٹ نے ایک قانون بنایا تھا اگر کوئی سمجھتا ہے کہ قانون میں تبدیلی ہو سکتی ہے تو اس کا صحیح فورم پارلیمان ہے ہم ان وجوہات کو دیکھیں گے جن کی وجہ سے عدالت نے یہ فیصلہ دیا ہے اس کے بعد پھر اپیل دائر کی جائے گی،انہوں نے کہا کہ نو مئی کے بعد میں نے چیئرمین پی ٹی آئی سے متعلق اپنا موقف تبدیل کیا میں نے 2013 میں 2018 میں چیئرمین پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا، مجھے ابھی تک کسی ایک جماعت کے حق میں ریاستی عمل نظر نہیں آرہا ۔
سیاسی مفاہمت اور ایک دوسرے سے تعاون سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔میرا کسی بھی سطح پر کسی جماعت کی حمایت کے لئے کسی کے ساتھ کوئی دو جملوں کا بھی تبادلہ نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نگران حکومت وفاق اور چاروں صوبوں میں موجود ہے۔ نگران حکومت انتخابات میں جانبداری کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ بیورو کریٹس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ ریاست کے ملازم کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔
ان کے سول سرونٹ کے طور پر کردار کو سراہنا چاہئے۔ نگران حکومت میں تعیناتیوں کا ذمہ دارہوں، فیصلہ ساز کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کا سیاسی جماعت سے بھی تعلق ہے اور وہ سیاسی رائے بھی رکھتے ہیں۔ 9 مئی کو غیر متوقع سیاسی رویہ نظر آیا، مارشل لاء کے ادوار سمیت کبھی بھی کسی سیاسی جماعت نے فوجی تنصیبات پر حملے نہیں کئے، ایسا صرف 9 مئی کو ہوا، کسی بھی سیاسی کارکن کی گرفتاری غیر معمولی بات نہیں، یہ کون سی سیاسی قیادت ہے جس کی گرفتاری پر یہ سب کیا گیا اب اس کے ردعمل میں لوگ دھڑا دھڑ انہیں چھوڑ رہے ہیں۔
قانون نافذ کرنے و الے اداروں نے قانون کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے، انہیں کسی کی گرفتاری سے نہیں روکا جا سکتا، کسی لاپتہ افراد کا معاملہ ابھی تک ان کے سامنے نہیں آیا۔ 9 مئی کے واقعہ کے بعد گرفتاریاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان آئین و قانون کے مطابق انتخابی عمل آگے بڑھا رہا ہے، جلد یہ عمل مکمل ہو گا اور انتخابات ہوں گے۔
اس حوالہ سے بھرپور ورکنگ ریلیشن شپ کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنی ضرورت کے مطابق بیانیہ تشکیل دیتی ہیں۔ درحقیقت ہم کوشش کر رہے ہیں کہ شفاف انداز میں انتخابات ہوں،جب انتخابات ہوں گے، لوگوں کی اکثریت انتخابی عمل کو شفاف، آزادانہ اور منصفانہ تسلیم کرے گی۔ کسی سیاسی جماعت کیخلاف سرکاری مداخلت نہ ہونا لیول پلینگ فیلڈ ہے جو اب سب جماعتوں کو میسر ہے۔
تمام سیاسی جماعیں انتخابی عمل میں شرکت کیلئے انتخابی مہم شروع کر چکی ہیں، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی کے واقعات پر قانون کے مطابق فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔ تحریک انصاف انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے، پارلیمنٹ اور عدلیہ قانونی مسائل حل کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مکالمہ کسی بھی معاشرے میں صحت مند علامت ہے، پاکستان میں مختلف فریقین کی گفت و شنید سے بہتری آئے گی۔
اسلام اور پارلیمانی کلچر میں مشاورت وسیع تناظر میں ہے اور اجتماعی دانش سے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس مشاورتی عمل میں عدلیہ سمیت تمام ادارے اور سول سوسائٹی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں بڑے لیڈر فیصلے کرتے ہیں اور مقامی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔ معیشت سمیت تمام مسائل کوئی سیاسی جماعت یا فرد اکیلا حل نہیں کر سکتا بلکہ اتفاق رائے اور اتحاد سے تمام مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔
عوام نے اپنے نمائندے منتخب کرنا ہیں اوروہ متحد ہو کر بھنور میں پھنسی پاکستان کی کشتی کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ معاشی پالیسی، خارجہ پالیسی اور انسداد دہشت گردی سمیت دیگر شعبوں کے حوالے سے پالیسی سازی سیاست کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتدریج جمہوری عمل کو آگے بڑھانا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے حوالہ سے پارلیمنٹ نے قانون سازی کی۔
اس حوالہ سے عدالت کے تفصیلی فیصلے میں قانونی جواز کو دیکھنا ہو گا۔ سکیورٹی صورتحال اور سماجی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ اس حوالہ سے عدالتی فیصلے سے متفق نہیں ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی ریاست سے بڑھ کر نہیں، نگران حکومت ریاست کے مفادات کی امین ہے اور اس حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرینگے۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت نے کرنسی کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کی۔
اس حوالے سے پالیسی سازی اقدامات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت کی کمی سے 4 ہزار ارب روپے کا قرضہ کم ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی گئی ہیں، عوام کو فائدہ پہنچانے کیلئے صوبائی حکومتوں کے ذریعے پرائس کمیٹیوں کو فعال کیا گیا۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کیخلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے نیک نیتی سے کام کررہے ہیں۔
گیس کے شعبہ کو متعدد مسائل درپیش ہیں۔ بجلی کی ترسیل و تقسیم میں چیلنجز درپیش ہیں، انتخابی عمل کی نگرانی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے جائزہ سے متعلق تیاری مکمل ہے، ان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ امید ہے دوسری قسط مل جائے گی، محصولات کے اہداف حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر آئی کا آئندہ مرحلہ علاقائی تعاون سے عالمی تعاون کی راہ پر گامزن ہے جس میں زمینی، فضائی اور بحری روابط شامل ہیں۔
پاکستان اس کا حصہ ہے، پاکستان کے مختلف شعبوں کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں، ویلیو ایڈیشن کے حوالہ سے چین سے بات ہوئی، سدا بہار گلگت بلتستان کنیکٹویٹی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا حامی ہوں، یہ پاکستان کا خوبصورت چہرہ ہے، گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق کی فراہمی کیلئے اپنا کردار ادا کروں گا اور اس حوالہ سے پائیدار حل تلاش کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔



