اہم خبریںپاکستان

ماحول دوست جہاز رانی میں پاکستان کی معاونت کےلئےپرعزم ہیں، امریکی ڈپٹی چیف آف مشن

کراچی:  امریکا نے پاکستان میں پائیدار اور ماحول دوست اصولوں سے ہم آہنگ جہاز رانی کو فروغ دینے سے قومی لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے حکومت پاکستان اور جہاز رانی کی صنعت کے ساتھ اپنی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس منصوبے سے عالمی ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے اور پاکستان کی تجارتی مسابقت کو فروغ دینے کیلئے جہاز رانی کے پائیدار اصولوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار امریکی ڈپٹی چیف آف مشن اینڈریو شوفر نے ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے نمٹنے کی غرض سے  ماحولیاتی اصلاحات سے متعلق دوسری گرین شپنگ راؤنڈ ٹیبل کی میز بانی کرتے ہوئے کیا، انھوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے سدباب کیلئے فوری اوراجتماعی عملی اقدامات کی ضرورت پر زوردیا۔۔ اس موقع پر وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری حسین اسلام اور  وزارت جہاز رانی کی ڈائریکٹر جنرل برائے پورٹس اینڈ شپنگ عالیہ شاہد بھی موجود تھیں۔

اپنے خطاب میں ڈی سی ایم شوفر نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی لانے کیلئے پائیدار جہاز رانی کے اصولوں کی اہمیت پر زوردیا۔ انھوں نے کراچی میں تعینات قونصل جنرل کونرڈ ٹربل اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) اور امریکہ کے محکمہ توانائی کے نمائندوں کے ہمراہ ان مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مؤثر بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ماحولیات کے حوالے سے ہمارے مشترکہ چیلنجوں کی بنا پر یہ امر ناگزیر ہو چکا ہے کہ ہم دوطرفہ مؤثر مکالمے میں شامل ہوں۔  یہ راؤنڈ ٹیبل پائیداراور سخت جان ماحولیاتی مستقبل کے حوالے سے ہمارے عزم کا ثبوت ہے، جس سے نہ صرف ہمیں بلکہ آنے والی نسلوں کو فائدہ ہو گا۔

گرین شپنگ راؤنڈ ٹیبل کے اسٹیک ہولڈرز نےبندرگاہ پر اور پاکستان میں جہاز رانی اور نقل و حمل کے شعبوں میں کاربن کے اخراج میں کمی لانےکے مواقع پربات چیت کی۔ بندر گاہ کے حکام، صنعت اورپورٹس اینڈ شپنگ سے وابستہ کلیدی افرادنے پاکستان میں جہازرانی کے شعبے میں ماحول دوست اورپائیداراصولوں کو فروغ دینے اور سی او پی 38 کے تحت گرین شپنگ لائحہ عمل کے نفاذ کے طریقوں پر بھی بحث کی۔

امریکہ اور ناروے نے سی او پی 38 کے موقع پرگرین شپنگ چیلنج کا آغاز کیا تھا۔ پاکستان میں واقع امریکی مشن نے یوایس ایڈ کے پاکستان ریجنل اکنامک انٹیگریشن ایکٹیویٹی (پی آر ای آئی اے) کے زیر اہتمام یکم جون کو ہونے والی مشاورت اورسترہ تا اٹھارہ اگست کو ہونے والےتکنیکی ورکنگ گروپ کےاجلاسوں کے فالو اپ کے طور پر اس مباحثے کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں ہونے والی بات چیت کا محور پی آر ای آئی اے میں دی گئی تجاویز تھیں جوابتدائی اسٹیک ہولڈرز اوربعد ازاں ورکنگ گروپ کے اجلاسوں میں بحث کے نتیجے میں وضع کی گئی تھیں۔ یہ تجاویز گرین شپنگ چیلنج کے حوالے سے پاکستان کی معاونت کیلئے جامع بنیاد فراہم کرتی ہیں، پاکستان کے روشن مستقبل کی تعمیر اور اس کی معاشی ترقی کو فروغ دینے کیلئے امریکہ اور پاکستان کے مل کر کام کرنے کی طویل تاریخ ہے۔  امریکہ نے فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے، پاکستانی عوام کیلئے معاشی مواقع کو فروغ دینے اورغذائی تحفظ اور طویل عمری کیلئے “سبز انقلاب” برپا کرنے میں پاکستان کی اعانت کی۔ اس بنیاد کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پاک-امریکہ گرین الائنس فریم ورک زراعت، صاف توانائی اور پانی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ امریکہ پاکستان کو ماحولیاتی تغیر سے نمٹنے کے عزم، توانائی کے ذرائع میں تبدیلی کی کوششوں اور سب کیلئے معاشی ترقی کو فروغ دینےمیں پاکستان کی معاونت کیلئے پُرعزم ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button