
اسلام آباد: ژوب کے قریب امیرجماعت اسلامی سراج الحق کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا ، خوش قسمتی سے سراج الحق محفوظ رہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے قافلے پر بم حملے میں خودکش حملہ آور ہلاک جبکہ 6 کارکن زخمی ہو گئے، جن میں 4 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے، حملہ امیر جماعت اسلامی کو جلوس کی شکل میں شہر لے جانے کے دوران کیا گیا، دھماکے سے متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سراج الحق نے واقعے کے بعد جلسے سے مختصر خطاب کیا اور دیگر پروگرام منسوخ کر دئیے۔ سیاسی و سماجی شخصیات سمیت حکومتی رہنماوں نے امیر جماعت اسلامی کے قافلے پر خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے


پولیس ذرائع کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان ایک روزہ دورے پر ژوب پہنچ رہے تھے ، جس کے لئے ایک بڑا جلوس شہر سے آٹھ کلومیٹر دور کوئٹہ قومی شاہراہ پر استقبال کے لئے موجود تھا، جیسے ہی جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر سراج الحق اور ساتھی جلوس کے ہمراہ جلسہ گاہ کے لئے شہر کی جانب رواں دواں تھے کہ اس دوران ایک مبینہ خودکش حملہ اور نے سراج الحق کی گاڑی کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا یا جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا ۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 2014 میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان پر بھی اس وقت ایک خودکش حملہ ہوا تھا جب وہ مولانا مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرنے کے بعد واپس جارہے تھے۔
خودکش بمبار نے مولانا فضل الرحمان کی گاڑی پر چڑھنے کی کوشش کی تھی تاہم کارکنوں کی جانب سے روکنے پر اس نے خود کو دھماکے سے ارا لیا تھا ، اس حملے میں دو افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے تھے۔



