جرمن سفیر کا سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو) کا دورہ

جرمن سفیر نے سرسو کا دورہ کیا، غربت میں کمی کے اقدامات كو سراہا
کراچی, فروری 28( پریس رلیز)–پاکستان میں جرمنی کے سفیر مسٹر الفریڈ گراناس اور ان کی سفارت خانے کی ٹیم بشمول ڈپٹی کونسل کراچی، اینڈراس ویگنر اور سیکریٹری جولیا کلین نے سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو) میرپورخاص کا دورہ کیا۔ منگل کو یہاں سرسو کے ترجمان جمیل احمد نے اپنے جاری كرده بیان میں بتایا ہے کہ جرمن سفیر کے دورے کا مقصد حکومت سندھ کے تعاون سے تنظیم سازی اور اس کے غربت میں کمی کے اقدامات کے بارے میں جاننا تھا۔


چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سرسو محمد ڈتل کلہوڑو نے اپنی تنظیم کے نقطہ نظر سے اگاہ کرتے ہوئے دیہی خواتین کی زیر قیادت گھریلو بنیادوں پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ چھوٹے کاروبار کے ذریعے دیہی خواتین کو مالی، سماجی اور اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر کی جانے والی کاوشوں پر بریفنگ دی۔
انهوں نے حکومت سندھ کے یونین کونسل بیسڈ رڈکشن پروگرام (UCBPRP) کے متعلق بتایا کہ اس پروگرام کے تحت غریب ترین دیہی آبادی کو سماجی موبلائزیشن کے ذریعے خدمات کی فراہمی کے حوالے سے ایک معتبر علامت ہے تاکہ مقامی کمیونٹیز کو سماجی اور معاشی طور پر بااختیار بنا کر ان کی معاشی حالت کو بہتر بنایا جا سکے ، انکم جنریٹنگ گرانٹس (IGG) ، کمیونٹی فنڈ کے ذریعے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں جیسا کہ UCBPRP کے تحت بلاسود قرض کے طور پر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام نہ صرف صحت، غربت، ماحولیات، سماجی تحفظ، پناہ گاہ، روزگار اور بنیادی ذریعہ معاش کے اشاریوں پر براہ راست توجہ دے کر سماجی شعبے کی بہتری پر توجہ مرکوز کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر قبول شدہ پائیدار ترقی کے اہداف کے مقاصد اور اہداف کو حاصل کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ جرمن وفد نے دیہی خواتین کو منظم کرنا اور سندھ حکومت-
سرسو کے پروگراموں سے مستفید ہونے والوں سے بھی ملاقات کی، بشمول مالٹیزر انٹرنیشنل کیش گرانٹس۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرسو مالٹیزر انٹرنیشنل اور ADH کے ساتھ مل کر ڈیزاسٹر ریسپانس اور بحالی کی کوششوں میں بھی شامل ہے۔ جرمن وفد نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق سرسو اور سندھ حکومت کے کام کو سراہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نے سندھ کے ٹارگٹڈ اضلاع میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔اس سے قبل دیہی خواتین کی جانب سے وفد کو جرمن ساختہ اجرک کے تحفے سے نوازا گیا۔ دوره کے اختتام پر اچھی صحت اور حفظان صحت کو فروغ دینے کے لیے حفظان صحت کی کٹس کی تقسیم کی گئی ۔




