
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جیل بھرو تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں کو تیاری کا پیغام دے دیا۔
سابق وزیر اعظم کا اپنے ویڈیو لنک خطاب میں کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس کے حامیوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، پکڑ دھکڑ سے ڈرنے والے نہیں، سازش کے تحت مسلط ہونے والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا، کون سی قیامت آئی کہ معیشت ڈوبنے کے قریب ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ہم نے اسلامی فلاحی ریاست کی بات کی، مدینہ کی ریاست کی بنیاد عدل اور انصاف تھی، پاکستان کا قیام لوگوں کا خواب تھا، تحریک پاکستان کے وقت بڑے لوگوں کی قربانیاں تھیں، جدھر انصاف ہے ادھر این آر او نہیں، جدھر انصاف ہے وہاں ظلم نہیں ہے، جو قوم اپنے نظریے سے ہٹ جاتی ہے وہ مر جاتی ہے، سازش کے تحت مجرموں کی حکومت ہم پر نافذ کی گئی، اگر ہم نہیں جاگیں تو ہم سب ذمہ دار ہوں گے۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی طاقت اوورسیز پاکستانی ہیں، 10 ملین اوورسیز پاکستانی ہیں، ڈالر 178 روپے کا تھا، ہمارے 3 سال 8 ماہ میں صرف 55 روپے ڈالر مہنگا ہوا، اس ایک ہفتے میں 50 روپے ڈالر مہنگا ہوا، سب چیزیں مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، کون سی قیامت آئی تھی کہ معیشت ڈوبنے کے قریب ہے، کس وجہ سے یہ مہنگائی کا طوفان آگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ریزرو ساڑھے 500 ارب ڈالر ہیں، ہمارے ریزرو 3 ارب ڈالر سے بھی نیچے گر گئے ہیں، امپورٹڈ حکومت کے امپورٹڈ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہیں، اسحاق ڈار نے پہلے آئی ایم ایف کو دھمکیاں دیں، اب اپنے گھٹنے ٹیک لیے ہیں، ان کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں، آگے جانے کا راستہ ان کو نہیں معلوم۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے نہیں سمجھ آتی رات کو تین بجے کیوں لوگوں کو گھروں سے اٹھانے آجاتے ہیں، 25 مئی کو لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، سینیٹراعظم سواتی کو ایک سچی ٹویٹ پرتشدد کا نشانہ بنایا گیا، بچے، بچے کو پتا ہے جنرل (ر) باجوہ نے این آر او ٹو دیا، کیا پاکستان کوئی بنانا ری پبلک ہے؟ فواد چودھری کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا کیا وہ دہشت گرد تھا، شاندانہ گلزار نے بیان دیا اس پردہشت گردی کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ شیخ رشید کواسلام آباد ہائی کورٹ نےضمانت دی لیکن اس پر مزید کیسز ڈالے جا رہے ہیں، شیخ رشید کی عمر 75 سال ہے ان کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں، انصاف کے نظام سے پوچھتا ہوں کدھر گئے ہمارے بنیادی حقوق ؟ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو بیرون ملک قتل کیا گیا، رجیم چینج کے خلاف بولنے والوں کو ڈرایا، دھمکایا گیا، ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون ہے، جن کواقتدارمیں بٹھایا ان کا مقصد اپوزیشن کو ڈرانا، دھمکانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لندن بھاگنے والے کے لیے گراؤنڈ بنائی جا رہی ہے، ملک میں استحکام ہو گا تو معاشی استحکام آئے گا، آئین کو سامنے رکھ کر دو اسمبلیوں کو تحلیل کیا تھا، آئین کے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90 دن کے اندر الیکشن ہونے ہیں، اسمبلیوں کی تحلیل کو 18 دن ہو گئے تاحال گورنر نے الیکشن کی تاریخ نہیں دی، 90 دن کے بعد یہ حکومت آئین کے خلاف ہو جائے گی، امپورٹڈ ڈاکو الیکشن سے خوفزدہ ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نےمجھے جیل ڈالنے کا پلان بنایا ہوا ہے، یہ سمجھتے ہیں جب تحریک انصاف کمزور ہو گی تب یہ الیکشن کی تاریخ دیں گے، سارا پاکستان آج عدلیہ کی طرف دیکھ رہا ہے، امید کرتا ہوں عدلیہ آئین کےساتھ کھڑی ہو گی، 90 دن کے اندر الیکشن نہ کرانے کا مطلب ملک میں جمہوریت نہیں ہو گی، ضمنی الیکشن ہارنے کے بعد یہ ڈرے ہوئے ہیں، ان کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ورکرز تیاری کر لیں، ہم نے جیل بھرو تحریک شروع کرنی ہے، ہم پاکستان کی ساری جیلوں کو بھر دیں گے تاکہ ان کا شوق پورا ہو جائے، کارکن تیاری کریں، جیل بھرو تحریک کے لیے سگنل دوں گا، ان کو ایک ہی دفعہ پتا چل جائے گا قوم کدھر کھڑی ہے، کارکن میرے سگنل کا انتظارکریں۔



