آصفہ بھٹو آج 30ویں سالگرہ منا رہی ہیں ، ان کی زندگی پر ایک نظر

آصفہ بھٹو پاکستان کے نامور سیاستدان اور سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی نواسی ہیں ۔
انہوں نے پہلی بار 2009 میں قوم سے خطاب کیا جبکہ 2018 میں سوشل میڈیا پر ان کی سیاست میں انٹری کے حوالے سے افوائیں گردش کرتی رہیں جن کی 2018 کے الیکشن میں حصہ نہ لینے سے تردید ہوئی ۔
آصفہ بھٹو بینظیر کی چھوٹی بیٹی ہیں ۔ 2018 میں وہ ایک ایسے تنازعہ کا شکار ہوئیں جب وکی پیڈیا کی جانب سے نمایاں پوزیشن نہ رکھنے کی وجہ سے ان کا صفحہ حزف کردیا گیا تھا۔
بات کریں ان کی نجی زندگی کے بارے میں تو آصفہ بھٹو3 فروری 1993 کو لندن میں پیدا ہوئیں اور لندن کی یونیورسٹی سے عالمی صحت میں ماسٹز کی ڈگری حاصل کی۔ لندن میں ہونے والی ان کی گریجویشن تقریب میں ان کے والد ، بہن اور لندن میں سابق پاکستانی ہائی کمیشنر واجد شمس الحسن سمیت بہت سے لوگوں نے شرکت کی۔
ان کی پیدائش ایک سیاسی گھرانے میں ہوئی۔ان کی مرحوم والدہ بینظیر بھٹو نے پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر خدمات سرانجام دیں ۔بےنظیر بھٹو کی شہادت کے وقت آصفہ بھٹو کی عمر صرف 19 سال تھی ۔ ۔
ان کے نانا زوالفقار علی بھٹو بھی پوری زندگی سیاست سے وابستہ رہے جبکہ ان کے بڑے بھائی بلاول بھٹو زرداری پی پی پی کے سربراہ کے طور پر کام سرانجام دے رہے ہیں اور ان کی بڑی بہن بختاور بھٹو پاکستانی فلانتھروپسٹ اور ماہر تعلیم ہیں۔
جیسا کہ آصفہ بھٹو پولیو کے خاتمے کی اقوام متحدہ میں سفیررہیں اسی طرح وہ روٹری سفیرہیں اور صحت کے مسائل دیکھنے کے لیئے پاکستان بھر کے مختلف مراکز کا دورہ کرتی رہتی ہیں جبکہ انہوں نے 2017 میں انسداد پولیو کی مہم شروع کی۔
سیاست کی بات کی جائے تو 2018 میں جو افوائیں گردش کر رہی تھیں وہ سب 2020 میں ملتان کے پی ڈی ایم کے جلسے میں دبنگ انٹری سے سچ ثابت ہوئیں ۔ آصفہ بھٹو اپنے بھائی بلاول بھٹو کے شانہ بشانہ سیاست میں دلچسپی رکھتی ہیں ، سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آگے ہونے والے الیکشن میں انہیں سرگرم سیاسی رہنما کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔



