شیری رحمٰن نے پوچھے عمران خان سے 10 سوالات

وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے 10 ۔
شیری رحمٰن نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں عمران خان کی طرف سوال اٹھاتے ہوئی کہا کہ عمران خان ہر بار دوسروں پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے، وہ عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ دہشتگردی اور مہنگائی کے ذمے دار نہیں ہیں۔
عمران خان عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے کہ وہ دہشتگردی اور مہنگائی کا ذمہ دار نہیں ۔ کہتے ہیں وہ جواب دہ نہیں، ان کی حکومت سے پہلے حکمرانی کرنے والے ذمہ دار ہیں۔ عمران خان ہر بار دوسروں پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ ان کو قوم کے10 سوالوں کے جوابات دینے ہونگے۔1/4
— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) February 2, 2023
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان کو قوم کے 10 سوالوں کے جوابات دینے ہوں گے۔
شیری رحمٰن نے سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ اسامہ بن لادن کو شہید کس نے کہا؟، دہشتگردوں سے مذاکرات کس نے کیے؟۔
وفاقی وزیر نے سوال کیا کہ سزا یافتہ دہشتگردوں کو صدارتی معافی کس نے دلوائی؟، دہشتگردروں کو کس مقصد کے لیے صدارتی معافی اور رہائی دی گئی؟
شیری رحمٰن نے کہا کہ 30 سے 40 ہزار جنگجوؤں کی پاکستان میں آبادکاری کون کرنا چاہتا تھا؟، کیا ان جنگجوؤں کو پاکستان میں آباد کرنے کی اجازت پارلیمان سے لی گئی تھی؟۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر نہیں، تو کیا ان کو ملک میں آباد کرنے کا فیصلہ عمران خان کا ذاتی تھا؟
انہوں نے سوال کیا کہ کیا سزا یافتہ دہشتگردوں کی رہائی کے حوالے سے پارلیمان کو اعتماد میں لیا گیا؟، ملک میں دہشتگردوں کے دفتر کھولنے کا خواہشمند کون تھا؟
شیری رحمٰن نے پوچھا کہ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کو رعایتیں دینے کے باوجود دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ کیوں ہوا؟
انہوں نے آخر میں کہا کہ ملک نے 70 ہزار سے زائد شہادتیں دی ہیں، آپ کی بدترین حکومت سے پہلے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔



