
مرغی کے گوشت کی قیمت میں ہوشربا اضافے نے غریب اور سفید پوش متوسط طبقے کے ہوش اڑادیئے۔
راولپنڈی، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور ملتان سمیت مختلف شہروں میں قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام نے چکن بائیکاٹ مہم کا آغاز کردیا۔
دوکاندار من مانے ریٹ پر فروخت کرنے لگے۔ راولپنڈی میں مرغی کے گوشت کی قیمت میں 4 گنا اضافہ ہوگیا۔ مرغی کاگوشت 800 روپے فی کلوتک پہنچ گیا۔
گوجرانوالہ میں قیمت 600 روپے تک جا پہنچی۔ کراچی میں بھی مرغی کے گوشت کی قیمتوں کو پر لگ گئے، گوشت600 روپے سے650 روپے کلو تک فروخت کیاجانے لگا۔
کوئٹہ والے بھی شدید سردی میں مہنگی مرغی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ پشاورمیں ایک ہفتے کے دوران چکن کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
پاکستان میں پولٹری کی صنعت سے وابستہ تاجر اس بحران کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے رہے ہیں جو پہلے ہی آٹا سمیت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام کی تنقید کی زد میں ہے۔
ان الزامات اور عوام کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر گذشتہ ہفتے 5 جنوری کو وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو یہ تجویز دی تھی کہ مرغی سے دور رہیں۔
انھوں نے بتایا تھا کہ وہ خود بھی مرغی نہیں کھاتے، نہ ہی گوشت کھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام مرغی کھانا چھوڑ دیں کیونکہ مرغی کی فیڈ مضر صحت ہے۔



