
وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کا اشارہ دے دیا۔
فارن انویسٹمنٹ بل پر اعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ اگر فارن انویسٹمنٹ بل پر پیشرفت کا سدباب نہ ہوا تو ان کے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے امکانات ہیں۔
اختر مینگل نے کہا کہ مخلوط حکومت میں تمام اتحادیوں کو لے کر فیصلے کرنے چاہئیں لیکن پارٹیوں کو اعتماد میں لینے کے بجائے انویسٹر کو اعتماد میں لیتے ہیں آپ پارلیمنٹ سے زیادہ کمپنیوں کو اہمیت دیتے ہیں تو پھر ہمیں بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارا اتحاد کس بنیاد پر ہے۔
بی این پی سربراہ کا کہنا تھاکہ ہم سے بڑھ کر کسی کمپنی کے سی ای او کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے، ہمارے صوبے کو جس انداز میں ہر کسی نے آکر لوٹا، جہاں وسائل ہوتے ہیں وہاں کے لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہوجاتی ہیں لیکن یہ بلوچستان کی بدبختی ہے کہ جس انداز میں وہاں وسائل دریافت ہوئے وہ ہمارے لیے وبال جان بنے ہوئے ہیں، اب اپنی قسمت پر روئیں یا حکمرانوں کی حرکت پر سر پیٹیں۔
بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس بلا لیا ہے جس میں کوئی اہم فیصلہ کیا جائے گا انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ہماری شکایات کا ازالہ نہ کیا تو ہم شہباز شریف کی حکومت سے علیحدہ بھی ہو سکتے ہیں @sakhtarmengal @Senator_Baloch pic.twitter.com/7Liin5M9G8
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) December 13, 2022
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حکومتی اتحاد کی پارٹی جے یو آئی کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ فارن انویسٹمنٹ بل زور، زبردستی اور دھوکے سے پاس کروایا گیا ہے اور یہ پاکستان کے وفاق کے لیے خطرہ ہے۔



