
سپریم کورٹ نے ریکوڈک منصوبے کو قانونی قرار دیدیا۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے 13 صفحات پر مشتمل ریکوڈک ریفرنس پر مختصر رائے سنائی۔
سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں لکھا کہ ریکوڈک ریفرنس میں صدر مملکت نے 2 سوالات پوچھے تھے، رائے میں بین الاقوامی ماہرین نے عدالت کی معاونت کی۔
عدالت کی رائے میں لکھا ہے کہ آئین پاکستان خلاف قانون قومی اثاثوں کے معاہدے کی اجازت نہیں دیتا، صوبے معدنیات سے متعلق قوانین میں ترامیم اور تبدیلی کر سکتے ہیں۔



