پاکستان

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلہ آج بروز منگل 15 نومبر کو محفوظ کر لیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے آج کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

آج ہونے والی سماعت کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندے مرتضیٰ وہاب، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان اور ایم کیو ایم کے وسیم اختر کمیشن میں پیش ہوئے، جب کہ چیف سیکریٹری، آئی جی سندھ اور سیکریٹری لوکل باڈی بھی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے کمیشن کو بتایا کہ سیلاب کے باعث بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کیا گیا، حکومت سندھ نے 90 روز کیلئے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی منظوری دی ہے، الیکشن کمیشن کراچی میں الیکشن کرانے کیلئے تیار ہے۔

دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر نے سوال کیا کہ وزارت داخلہ بتائے کہ بلدیاتی انتخابات کیلئے ایف سی اور رینجرزکی کیا پوزیشن ہے؟ جس پر وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ فورسز ابھی تک سیلاب اور امن و امان میں مصروف ہیں، ہم پوزیشن میں نہیں کہ سیکیورٹی فراہم کرسکیں، صورت حال اس قابل نہیں کہ ہم سول آرمڈ فورسز کو کراچی بلدیاتی انتخابات کیلئے مہیا کرسکیں۔

سندھ بلدیاتی الیکشن کیس میں سب سے بڑا دھماکا سندھ حکومت نے کیا۔ مرتضیٰ وہاب نے کراچی حیدرآباد میں بلدیاتی الیکشن میں تین ماہ کا التوا مانگا اور فیصلے کی وجوہات بھی پیش کیں۔

اس موقع پر مرتضیٰ وہاب نے مؤقف اپنایا کہ پہلے مرحلے میں حکومت نے شیڈول کے مطابق الیکشن کرایا، بارش اور سیلاب کے باعث دوبار دوسرے مرحلے کا الیکشن ملتوی ہوا، سندھ میں 25 سے 30 فیصد جگہ پر پانی کھڑا ہے، کراچی میں بلدیاتی انتخابات کیلئے سیکیورٹی فورسز اور انتظامی عملہ مہیا کرنا ممکن نہیں، کراچی میں 4900 پولنگ اسٹیشن ہیں جن میں سے 1300 حساس ہیں، ہر پولنگ اسٹیشن پر 8 اہلکار درکار ہوں گے۔

ایم کیو ایم کراچی میں جلد الیکشن کی حامی مگر ان کی سوئی ، مردم شماری کے نکتے پر اٹکی رہی ۔

چیف الیکشن کمشنر نے سوال کیا کہ کیا آپ سیکیورٹی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں؟ کل تو سندھ ہائیکورٹ میں آپ نے کہا کہ آپ الیکشن کیلئے تیار ہیں، بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، سندھ حکومت الیکشن کمیشن کے اختیار کو قانون کے ذریعے کم نہیں کرسکتی۔

سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات 120 دن کے اندر ہونے چاہئیں، صوبائی حکومتیں چاہتی نہیں کہ بلدیاتی انتخابات ہوں، پہلے بھی صوبوں میں بہت مشکل سے بلدیاتی انتخابات کرائے، پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات کرانے میں بہت مشکل آرہی ہے لیکن ہم کرالیں گے۔ اس دوران پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ 90 روز میں الیکشن کرانے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button