
ارشد شریف کی موت سے قبل ان پر تشدد کا دعویٰ سب سے پہلے اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک پاکستانی صحافی و اینکر پرسن نے ارشد شریف کے قتل کی چونکا دینے والی تفصیلات بتائیں۔
صحافی نے دعویٰ کیا تھا کہ ارشد شریف کو 3 گھنٹے سے زیادہ وقت تک وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کرنے سے پہلے ان کے ناخن انگلیوں سے کھینچ لیے گئے، شدید تشدد سے ان کی انگلیاں اور پسلیاں بھی ٹوٹ گئی تھیں۔
ارشد شریف کی موت کو ایک سوچا سمجھا قتل قرار دیتے ہوئے صحافی نے دعویٰ کیا تھا کہ گولیاں ارشد شریف کے سر کے پچھلے حصے پر نزدیک سے چلائی گئی تھیں۔
اس حوالے سے کینیا کے اخبار ’نیشن‘ نے نیروبی میں مقیم ایک کنسلٹنٹ پیتھالوجسٹ ڈاکٹر احمد کلیبی سے رابطہ کیا جنہوں نے ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم کی 2 رپورٹس کا تجزیہ کیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ارشد شریف کو لگنے والے زخم اور ان کی موت کے درمیان وقت کا دورانیہ 10 سے 30 منٹ تک تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’رپورٹ میں زخم سے موت تک کے درمیان وقفے کے پیچھے وجہ کی وضاحت نہیں کی گئی، ایسا لگتا ہے کہ یہ اندازہ کسی خاص ہسٹوپیتھولوجیکل جائزے یا مزید سائنسی جانچ کے بجائے دماغ اور دائیں پھیپھڑوں میں نظر آنے والے زخموں کی بنیاد پر لگایا گیا ہے‘۔
ڈاکٹر احمد کلیبی نے وضاحت کی کہ کینیا اور پاکستان میں کیے گئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹس میں تشدد کا کوئی ثبوت نہیں ہے، رپورٹ میں دیگر زخموں کا کوئی ثبوت درج نہیں کیا گیا جس کا تشدد سے کوئی تعلق ہو اور نہ ہی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ موت سے قبل مقتول کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کی موت سر اور سینے پر گولیوں کے متعدد زخموں کے سبب ہوئی، گولیاں درمیانے فاصلے سے تیز رفتار سے آتشیں اسلحے سے چلائی گئیں۔



