کیا سندھ میں ’’بلٹ ٹرین‘‘ چلے گی؟

سندھ حکومت نے کراچی اور سکھر کے درمیان ’’بلٹ ٹرین‘‘ چلانے کے منصوبے پر غور شروع کردیا
وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے کراچی میں 300 الیکٹرک بسیں فوری لانے کی عالمی بینک کو تجویز پیش کی۔
بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم’’یلو لائن‘‘ منصوبے کے حوالے سے عالمی بینک کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں شرجیل میمن نے بتایا کہ سندھ حکومت کراچی اور سکھر کے درمیان’’ بلٹ ٹرین‘‘ چلانے کی بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
جبکہ عالمی بینک کے نمائندوں نے یلو لائن کے روٹ کا جوائنٹ سروے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یلو لائن منصوبے پر چار سو اڑتیس ملین ڈالر لاگت آئے گی، منصوبے کے تحت یلو لائن کے لیے داؤد چورنگی، لانڈھی سے نمائش چورنگی تک 21 کلومیٹر طویل کوریڈور تعمیر کیا جائے گا۔
جو کورنگی انڈسٹریل ایریا، جام صادق پل ، مین کورنگی روڈ، ایف ٹی سی انٹرچینج، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین سے ہوتا ہوا کشمیر روڈ انٹرچینج پر بی آر ٹی ریڈ لائن سے منسلک ہوکر نمائش چورنگی پر اختتام پذیر ہوگا۔



