آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز کا مطالبات کی منظوری کےلیے72گھنٹوں کا الٹی میٹم، پہیہ جام ہڑتال کی دھمکی

کراچی: پاکستان آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لیے 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا۔
مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی، جس کی ذمہ داری وزارتِ پیٹرولیم اور اوگرا پر ہوگی۔ انہوں نے وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے میں اضافے اور کمرشل لوڈنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عابد اللہ آفریدی نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ موٹروے اور این ایچ اے ٹول ٹیکس میں 180 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے ٹول ٹیکس کے تناسب سے کرایوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مذاکرات اور خط و کتابت جاری تھی، مگر اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے انہیں ہڑتال پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو پورے پاکستان میں آئل ٹینکرز کا پہیہ جام ہوگا۔
جنرل سیکریٹری شعیب خان نے کہا کہ پائپ لائن کو 55 فیصد کے بجائے 80 فیصد مال دیا جا رہا ہے، جس کے باعث گاڑیاں لوڈ کے انتظار میں کھڑی رہتی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمرشل لوڈنگ بند کر کے پائپ لائن کا کوٹہ مقرر کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائپ لائن کی وجہ سے دو ماہ میں صرف ایک ٹرپ ملتی ہے، جبکہ ایک گاڑی پر ڈھائی سے تین کروڑ روپے لاگت آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے 70 فیصد کوٹہ پائپ لائن کو دیا ہوا ہے، باقی 30 فیصد روڈ کے لیے ہے، مگر وہ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ شعیب خان نے کہا کہ وفاقی وزیر علی پرویز کو کئی بار ملاقات کے لیے خطوط لکھے، لیکن شنوائی نہیں ہوئی، اور جب احتجاج یا ہڑتال کی بات کی جاتی ہے تو حکومت عوام کے ساتھ زیادتی کا الزام لگاتی ہے۔
آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے صدر سرفراز جدون نے کہا کہ این ایچ اے کا ٹیکس تین سال میں 180 فیصد بڑھ چکا ہے، مگر کرائے آج بھی تین سال پہلے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ٹرانسپورٹ ہے، ٹرانسپورٹرز کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے۔



