صحافی کی پھندا لگا کر خودکشی، سر تن سے جدا ہوگیا


مصرمیں ایک مقامی صحافی نے جمعرات کی صبح اپنے ادارے کے اندر خود کو پھانسی لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
الاھرام فاؤنڈیشن کے لیے کام کرنے والے عماد الفقی نے خود کو پھانسی لگا کر خودکشی کی اور ان کا سر تن سے جدا ہوگیا۔
جسم سے الگ ہونے والا سرعمارت کی چوتھی منزل پر واقع اس کے دفتر کی بالکونی سے نیچے جا گرا۔
تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح 4:50 بجے پیش آیا، جب عمارت سے ملحق چرچ میں ایک ملازم نے صحافی کا سر چرچ کی عمارت کے قریب پریس تنظیم کی دو عمارتوں کو الگ کرنے والی بیریئر میں پڑا ہوا پایا۔
معلوم ہوا کہ صحافی نے اپنے دفتر کی کھڑکی میں رسی سے لٹک کر خود کشی کر لی جس کے نتیجے میں جسم بھاری ہونے کے باعث اس کا سر تن سے جدا ہو گیا اور سر ادارے کی دو عمارتوں کے درمیان تنگ گلی میں جا گرا۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ خود کشی کرنے والے صحافی کی عمر پچاس سال تھی۔ وہ معروف ادارے کے نیوز ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا اور وہ اس شعبے کی صدارت سنبھالنے کے لیے امیدوار تھا۔ اسے اپنے کام کی جگہ یا اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوئی پریشانی نہیں ہے۔
پبلک پراسیکیوشن نے تفتیش شروع کردی ہے۔ کچھ عینی شاہدین اور صحافی کی دو بیویوں کو طلب کرکے ان کے بیانات لیے گئے ہیں اور مانیٹرنگ کیمروں کے ریکارڈ سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔



