امریکی پولیس کا بھیس بدلنے والے ایرانی کا پاکستانی انٹیلی جنس کے ساتھ تعلقات کا دعویٰ


امریکی وفاقی پراسیکیوٹر نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ واشنگٹن میں زیر حراست افراد میں سے ایک جس نے اپنی شناخت ایک وفاقی ایجنٹ اور امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ملازم کے طور پر کی ہے، کے پاکستانی انٹیلی جنس سروس سے روابط تھے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق ملزمان میں سے ایک ایرانی نژاد ہو سکتا ہے۔ مشتبہ ملزمان میں 40 سالہ آرین طاہر زادہ اور 36 سالہ حیدر علی پر الزام ہے کہ انہوں نے خود کو امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ایجنٹ کے طور پر جھوٹی شناخت دلائی اور امریکی خفیہ سروس کے ارکان کو مہنگے تحائف فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان میں ایک خاتون اول جِل بائیڈن کی حفاظت پر مامور اہلکار بھی شامل ہے جسے مبینہ طورپر تحائف دینے کی کوشش کی گئی۔
#Breaking Prosecutors say one of the men arrested for impersonating federal agents had visas to Pakistan and Iran and claimed a connection to Pakistani intel agency ISI. @wusa9 pic.twitter.com/tzF5AQOOQs
— Bruce Leshan (@BruceLeshan) April 7, 2022
امریکا میں فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ریڈیو فردا نے عدالت میں وفاقی پراسیکیوٹر جوشوا رتسٹین کے حوالے سے بتایا کہ 2019 میں اور صرف چند ماہ قبل دونوں مدعا علیہان نے واشنگٹن میں اپنے اپارٹمنٹ میں سیکیورٹی ایجنٹوں کی میزبانی کی۔ ان میں سے ایک “حیدر علی” نے ہر شہر کا سفر کیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے اس اہلکار نے یہ بھی وضاحت کی کہ”حیدر علی” نے گواہوں پرالزامات لگائے کہ اس کے پاکستانی انٹر سروسز انٹیلی جنس “آئی ایس آئی” سے تعلقات تھے۔
امریکی ریڈیو کے مطابق ان دونوں افراد کے محرکات اور اصلیت کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے لیکن ان دونوں افراد کے ناموں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے ایک ایرانی نژاد ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نام اور کنیت “آرین طاہر زادہ” پاکستان میں استعمال نہیں ہوتی تھی بلکہ ایک ایرانی نام ہے جب کہ “حیدر علی” پاکستانی ہے اور کسی خاص فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔
A federal judge has ordered Arian Taherzadeh detained for allegedly impersonating a federal officer. Prosecutors argued flight risk, evidence destruction, and firearms seized at Navy Yard apartment. @wusa9 pic.twitter.com/IWJca8UHmg
— Bruce Leshan (@BruceLeshan) April 7, 2022
رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں افراد کا معاملہ اس وقت ایک فوجداری مقدمے کے طور پر زیر تفتیش ہے اور ابھی تک ’’قومی سلامتی‘‘ کا مسئلہ نہیں اٹھایا گیا تاہم امریکی انٹیلی جنس سروس نے مشتبہ افراد کے ساتھ روابط کی وجہ سے اپنے چار ایجنٹوں کو کام سے معطل کر دیا۔
عدالت میں پیش کیے گئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن میں “آرین طاہرزادہ” اور “حیدر علی” کا اپارٹمنٹ ایک ایسی عمارت میں واقع ہے جس میں پینٹاگان کے ملازمین سمیت امریکی سیکیورٹی اور وفاقی ملازمین کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔
پراسیکیوٹر کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملزمان نے اپارٹمنٹ میں کیمرے اور دیگر نگرانی کا سامان نصب کیا اور دوسرے رہائشیوں کو بتایا کہ انہیں شبہ ہے ملزمان نے ان کے موبائل تک رسائی حاصل کی ہے۔
اس کے علاوہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ عرصے بعد ایک تیسرے شخص کو “امریکی محکمہ دفاع کے ایجنٹ” کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا کام سونپا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ “آرین طاہر زادہ” نے خاتون اول کی سیکیورٹی ٹیم کے ایک خفیہ عنصر کو 2,000 ڈالرکا ہتھیار بطور تحفہ پیش کیا اورامریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے متعدد ملازمین کو اپارٹمنٹس پیش کیے۔ ہر ہاؤسنگ یونٹ کا کرایہ تقریباً 4,000 ہزار ڈالرماہانہ ہے۔
اٹارنی جنرل راٹسٹین نے جج سے کہا کہ وہ ان دو امریکیوں کی حراست میں توسیع کریں جنہیں بدھ کو گرفتار کیا گیا تھا۔



