افطار میں روز پکوڑے کھاتے ہیں تو یہ چیز ملانا چھوڑ دیں

پکوڑوں کے بغیر افطاری سے بھرا دسترخوان پررونق نہیں لگتا، بچہ ہو یا بڑا اس آئٹم کو روزہ کھولنے کے بعد لازمی کھانا پسند کرتا ہے۔ آلو، پالک، پیاز، بینگن اور مرچی کی پکوڑوں سے لبالب بھری میز چار چاند لگادیتی ہیں، اسے افطار کا اہم مینیو بھی سمجھا جاتا ہے۔
نرم پکوڑے بنانے کے لئے ہمارے ہاں بیسن گھولتے ہوئے تھوڑی مقدار میں میٹھا سوڈا بھی اکثر ملایا جاتا ہے جس کا کیمائی نام سوڈیم بائی کاربونیٹ ہے۔ یہ سوڈا منہ میں ناگوار بو پیدا کرنے کے علاوہ معدے میں درد، جلن، الٹی اور تیزابیت کا باعث بھی بنتا ہے۔ چونکہ بیسن میں سوڈا شامل کرنے کے بعد اسے تیل میں بھی تلا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ کافی نقصان دہ بن جاتا ہے نہ صر بلڈ پریشر بلکہ یہ دل کی بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔
عام طور پر لوگ اس بارے میں یہی کہتے ہیں کہ زرا سا سوڈا ملانے سے کچھ نہیں ہوتا لیکن یہی زرا سی چیز سارا دن خالی پیٹ رہنے کے بعد روزانہ کھائی جائے تو اس کے نقصانات ضرور سامنے آتے ہیں اسی لئے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ افطار میں تلی ہوئی چیزوں کا استعمال کم سے کم یا پھر ایک دن چھوڑ کر کریں۔



