خواجہ معین الدین چشتی کا 810 واں عرس مبارک

نام ۔۔۔ معین الدین حسن
ولادت ۔۔۔ موضع سنجر شہر خراساں میں 537ھ میں پیدا ہوئے۔ مخصوص خطابات ۔۔۔ نائب رسول فی الہند، سلطان الہند، عطائے رسول، غریب نواز، ہندالولی، خواجہ خواجگان، خواجہ اجمیر، سلطان سنجر
وصال ۔۔۔ 6/ رجب 633ھ
مدفن ۔۔۔ اجمیر شریف
والد ماجد ۔۔۔ حضرت سید غیاث الدین حسن
والدہ محترمہ ۔۔۔ بی بی ام الورع (مگر بی بی ماہ نور سے مشہور تھیں)
ولادت
سلطان الہند، عطاء رسول، خواجہ خواجگان حضرت معین الدین حسن چشتی سنجری رضی اللہ تعالٰی عنہ موضع سنجر خراسان 537ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی حضرت غیاث الدین حسن ہے۔ یہ آٹھویں پشت میں عارف حق موسٰی کاظم علیہ الرحمۃ کے پوتے ہوتے ہیں۔
والدہ محترمہ کا نام بی بی ام الورع ہے اور بی بی ماہ نور سے مشہور تھیں جو چند واسطوں سے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پوتی تھیں۔ اس لئے آپ والدہ کی طرف سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی سید ہیں۔
حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی بن خواجہ غیاث الدین بن خواجہ نجم الدین طاہر بن خواجہ سید ابراہیم بن سید ادریس بن امام موسٰی کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن امیر المومنین حضرت مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم رضی اللہ تعالٰی عنہ
نسب نامہ مادری یہ ہے
بی بی ام الورع بنت حضرت سید داؤد بن عبداللہ جنبل بن زاہد بن محمد موسٰی بن سید عبداللہ مخفی بن حسن مثنٰی بن سیدنا امام حسین بن امیر المومنین حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ
تعلیم و تربیت
ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ آپ کے والد بزرگوار حضرت غیاث الدین حسن ایک بڑے جید عالم تھے۔ خواجہ صاحب نے نو سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ فرما لیا اور اس کے بعد سنجر کے ایک مکتب میں داخلہ ہوا۔ آپ نے یہاں ابتدائی طور سے تفسیر، فقہ اور حدیث کی تعلیم پائی اور تھوڑی ہی عرصے میں آپ نے تمام علوم میں مہارت حاصل کرلیا۔
خطابات و القاب
مخصوص اور مشہور خطاب یہ ہیں:۔ نائب رسول فی الہند، سلطان الہند، عطائے رسول، غریب نواز، ہندالولی، خواجہ خواجگان، خواجہء اجمیر، سلطان سنجر۔ اور القاب یہ ہیں :۔ قدوۃ الاولیاء، مخزن معرفت، دلیل العارفین، برہان الواصلین، تاج العاشقین، سید العادین، تاج المقربین، سلطان العارفین، قطب دوراں، معین الملت والدین، امما شریعت و طریقت، واقف اسرار، صوری و معنوی، معین الحق۔
شجرہء بیعت
پندرہ واسطوں سے امام الاولیاء حضرت مولٰی کرم اللہ وجہہ الکریم تک آپ کا شجرہ ملتا ہے۔ معین الدین از خواجہ عثمان ہارونی از حاجی شریف خدندنی چشتی از قطب الدین مودور چشتی از خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی از خواجہ ابو محمد چشتی از خواجہ ابدال چشتی از خواجہ ابو اسحاق چشتی از خواجہ ممشاد علادنیوری از شیخ امین الدین بصری از شیخ سدید الدین حذلقۃ المرعشی از سلطان ابراہیم ادہم بلخی از خواجہ فضیل بن عیاض از خواجہ عبدالواحد بن زید از حضرت حسن بصری از شہنشاہ ولایت حضرت علی۔ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)
چشتی کی وجہ تسمیہ
حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی بیعت کرنے کی غرض سے گئے۔ خواجہ ممشاد دنیوری نے آپ کو بیعت ارادت سے مشرف کرنے کے بعد فرمایا؛۔ تیرا نام کیا ہے ؟ عرض کیا۔ اس عاجز کو ابو اسحاق کہتے ہیں۔ یہ سن کر خواجہ ممشاد علاد دینوری نے فرمایا۔ آج سے ہم تجھے ابو اسحاق چشتی کہیں گے اور جو تیرے سلسلہء ارادت میں قیامت تک داخل ہوگا وہ چشتی کہلائے گا۔
ابو اسحاق شامی اپنے پیر کے فرمان کے مطابق “چشت“ تشریف لاکر رشد و ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ خواجہ معین الدین کے پیران عظام میں سے ہیں اس وجہ سے حضرت خواجہ بھی چشتی مشہور ہوئے۔ (احسن السیر و مسالک السالکین)
ازواج و اولاد
سرکار دو عالم نے خواب میں فرمایا۔ اے معین الدین ! تو ہمارے دین کا معین ہے۔ تجھے شادی کرنا چاہئیے۔ اس فرمان نبوی کے مطابق پہلی شادی بی بی امتہ اللہ سے کی۔ 590ھ میں جن کے بطن سے خواجہ فخرالدین، خواجہ حسام الدین اور بی بی حافظ جمال پیدا ہوئیں۔ دوسری شادی سید وجیہہ الدین شہدی کی صاحبزادی عصمت اللہ سے ہوئی۔ 620ھ میں آپ کے بچن سے شیخ ابو سعید پیدا ہوئے۔
خواجہ فخر الدین ابو الخیر
خواجہ صاحب کے سب سے بڑے صاحبزادے 591ھ میں پیدا ہوئے۔ ذریعہ معاش زراعت تھی۔ آپ نے علوم ظاہری و باطنی حاصل کیا۔ بتاریخ 5 شعبان المعظم 661ھ میں واصل بحق ہوئے۔ مزار شریف سرواڑ شریف میں ہے۔ ہر سال عُرس ہوتا ہے۔
خواجہ حسام الدین ابو صالح
آپ خواجہ صاحب کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ زندگی ہی میں لوگوں کی نظروں سے غائب ہوکر ابدالوں میں شامل ہوگئے۔
بی بی حافظ جمال
خواجہ صاحب کی اکلوتی صاحبزادی ہیں۔ آپ کی شادی قاضی حمیدالدین ناگوری کے صاحبزادے شیخ رضی الدین عرف عبداللہ سے ہوئی۔ مزارِ مبارک خواجہ صاحب کے پائیں میں واقع ہے۔
خواجہ ضیاء الدین ابو سعید
خواجہ صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ آپ کی عُمر پچاس سال ہوئی۔ آپ کا مزار اپنے والد کی درگاہ میں لب جھالرہ سایہ گھاٹ پر زیارت گاہ خاص و عام ہے۔
خواجہ صاحب کی زندگی
نہادت سادی تھی۔ آپ نے صفات بشری ترک فرما کر روحانیت میں کمال حاصل کیا۔ آپ کے پیرو مُرشد خواجہ عثمان ہارونی کو آپ کی مُریدی پر بڑا ناز تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھے۔
ہمارا معین خدا کا محبوب ہے۔ مجھے اس کی مُریدی پر فخر ہے۔ آپ نے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا اپنا اُصول بنا رکھا تھا۔ سنت رسول کے پابند تھے۔ آپ فنافی الرسول کے درجہ پر تھے۔ آپ کا کُل وقت ریاضت و مجاہدہ اور عبادت میں گزرتا تھا۔ آپ اکثر باوضو رہتے تھے۔ اور عشاء کے وضو سے فکر کی نماز ادا کرتے تھے۔ دن رات میں قرآن پاک ختم کرتے تھے۔
آپ کی مُرید نوازی بہت مشہور ہے۔ مُریدوں کا خیال بے حد رکھتے تھے۔ آپ کا فرمان اعلٰی ہے کہ معین الدین اس وقت تک جنت میں قدم نہیں رکھے گا جب تک اپنے مُریدوں اور مُریدوں کے مُریدوں کو جو قیامت تک سلسلے میں ہوں گے جنت میں نہ لے جائے گا۔ آپ پر استغراق کی کیفیت رہتی۔ آنکھیں بند رکھتے۔ جب نماز کا وقت ہوتا آنکھیں کھولتے۔ اس وقت آپ کی یہ حالت ہوتی کہ جس شخص پر بھی نظر پڑتی وہ ولی کامل ہو جاتا۔ آپ قطب وحدت پر فائز تھے۔ آپ مرتبہ محبوبیت پر پہنچ گئے تھے۔ احدیت میں فنا ہوکر آپ دوست کے ساتھ ایک رنگ ہو گئے تھے۔
اخلاق و عادات
نہایت تحمل و برباد تھے۔ خطا معاف فرما دیتے۔ بے حد سخی تھے۔ غریبوں اور محتاجوں کی ہر طرح سے امداد کرتے۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتے بیماریوں کی خبر گیری کرتے۔ مظلوموں کو ظالم کے پھندے سے نکالتے۔ آپ حلیم اور منکسر المزاج تھے۔
آپ ایک خدا رسیدہ بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باکمال مبلغ و مصلح، صاحب طرز مصنف اور خوش گو شاعر تھے۔ مندرجہ ذیل تصنیفات آپ کے ذوق علمی پر شاہد ہیں:۔
(1) انیس الارواح (2) کشف الاسرار (3) گنج الاسرار (4) رسالہ تصوف منظوم (5) رسالہ آفاق و انفس (6) حدیث المعارف (7) رسالہ موجودیہ ( 8 ) دیوان معین۔



