وزیر اعظم شہباز کا دورہ چین , سی پیک کی رفتار کو تیزکرنے میں مدد ملے گی

کالم نگار-اصغرعلی مبارک
موجودہ حکومت سی پیک کے تحت تمام منصوبوں اور معاہدوں کی تکیمل کے لیے پر عزم ہے ، سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے .سی پیک منصوبہ سابق دور حکومت میں نہایت سست روی کا شکار رہا اور اس پر ایک سینٹی میٹر بھی کام نہ ہوا جس سے اس بارے میں کئی سوالات نے جنم لیا سی سی پیک ہماری آئندہ نسلوں کے لیے بہت اہم ہے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف یکم نومبر کو چین کا پہلا دورہ کریں گے، وزیراعظم نواز شریف صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ اور مقننہ کے سربراہ لی ژانشو سے ملاقات کریں گے ان کے ساتھ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری دو روزہ دورے میں شریک ہوں گے۔ اپریل میں عدم اعتماد کے ووٹ میں عمران خان کی برطرفی کے بعد اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، جنوبی ایشیائی ملک کے طویل عرصے سے قریبی اتحادی چین کا پاکستانی رہنما کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔
’وزیراعظم شہباز کا دورہ چین CPEC تعاون کی رفتار کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا‘‘۔یہ دورہ CPEC جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے 11ویں اجلاس کے تناظر میں CPEC تعاون کی رفتار کو مزید مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گا، جس میں دونوں فریقین نے CPEC کے تحت جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ کئی نئے منصوبے بھی تجویز کیے گئے۔
وزیر اعظم شہباز شریف ان پہلے غیر ملکی رہنماؤں میں شامل تھے جنہیں گزشتہ ہفتے کی کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس کے بعد چین میں مدعو کیا گیا تھا، جس میں شی جن پنگ نے اس کے سربراہ کے طور پر تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی اور نئی قیادت کی لائن اپ کی نقاب کشائی کی۔ چینی صدر شی جن پنگ نے ستمبر میں ازبکستان کے شہر سمرقند میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری علاقائی رابطوں کا فریم ورک ہے۔ CPEC سے نہ صرف چین اور پاکستان کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ایران، افغانستان، بھارت، وسطی ایشیائی جمہوریہ اور خطے پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن بدقسمتی سے گزشتہ دور حکومت میں CPEC منصوبہ انتہائی سست روی کا شکار تھا اور اس پر ایک سینٹی میٹر تک کام نہیں کیا گیا جس سے کئی سوالات نے جنم لیا کہ CPEC ہمارے مستقبل اور نسلوں کے لیے کتنا اہم ہے۔ اس نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ ’’وزیراعظم شہباز کا دورہ چین سی پیک تعاون کی رفتار کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا‘‘۔ یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ اس کا تصور 1990 کی دہائی میں ہوا تھا، اور چین کے مغربی صوبوں کو بحیرہ عرب سے ملانے کے لیے چین سے پاکستان تک کا پہلا نقطہ نظر 1999 میں آیا تھا۔ گوادر بندرگاہ 2000 کے وسط میں بنائی گئی تھی، اور کئی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے۔ 2010 کے بعد۔ چینی صدر شی جن پنگ نے 20 اپریل 2015 کو پاکستان کا دورہ کیا، پاکستان اور چین نے CPEC کے تحت 46 بلین امریکی ڈالر کے پورٹ فولیو پر اتفاق کیا۔ وفاقی حکومت چین کے ساتھ نئے سرے سے مذاکرات شروع کرنا چاہتی ہے۔
اس سے قبل چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا تھا کہ ”چین پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے تاکہ اس دورے کو ہمہ موسمی اور اعلیٰ سطحی تزویراتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے موقع کے طور پر استعمال کیا جا سکے، تاکہ چین اور پاکستان کے درمیان قریبی برادری کی تعمیر کی جا سکے۔ نئے دور میں مشترکہ مستقبل، اور علاقائی امن و استحکام، اور بین الاقوامی انصاف اور انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون کرنا۔”
وانگ نے کہا کہ صدر شی، وزیر اعظم لی اور چین کی مقننہ کے سربراہ لی ژانشو اپنے دورے کے دوران نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ دونوں فریقین سے دوطرفہ تعلقات کی ترقی اور بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کی توقع ہے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نہ صرف اس منصوبے کے دائرہ کار بلکہ رفتار کو بھی تیز کیا جائے گا ۔ ہماری حکومت اس منصوبے کو بھر پور انداز میں آگے بڑھانے کے لیے پر عزم ہے ۔ لاہور میں یوٹیوبرز سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اب میں دورہ چین پر جارہا ہوں، پاک چین دوستی لازوال ہے، دونوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا، 2015 میں سی پیک کا معاہدہ وجود میں آیا جس ے ذریعے پاکستان میں 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، امید ہے یہ دورہ اس تعلق کو مزید گہرا کرے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ سوشل میڈیا کے بڑے ناموں سے آج میری ملاقات کا اہتمام کیا گیا ہے، میں کبھی سوشل میڈیا کا اتنا فالوور نہیں رہا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس میڈیم کی آواز پاکستان بھر میں زور سے گونجتی ہے اور سنی جاتی ہے، آپ سب سے تاخیر سے ملنے پر معذرت خواہ ہوں، ان شا اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6 ماہ میں اپنے دور حکومت کے دوسرے دورے پر میں 24 اکتوبر کو سعودی عرب گیا، شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کی کابینہ سے بہت اچھے اور مثبت ماحول میں گفتگو ہوئی، انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یقین دلایا، وہ بہت جلد دورہ پاکستان پر بھی آئیں گے اور ہم ان کا والہانہ استقبال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی میں سعودی عرب کے دورے سے آیا اور چین جارہا ہوں اور انہوں نے ایک بار پھر سے دھرنے اور لانگ مارچ شروع کردیے، ستمبر 2013 میں بھی یہ لوگ یہی کررہے تھے جب چینی صدر شی جن پنگ نے دورہ پاکستان پر آنا تھا، چینی سفیر نے انہیں درخواست کی کہ آپ 3 روز کے لیے یہاں سے اٹھا جائیں لیکن انہوں نے انکار کردیا اور وہ دورہ 7 ماہ مؤخر ہوگیا، آج دوبارہ عمران خان نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے دھرنے اور لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے، انہوں نے اپنے دور حکومت میں اس ملک کو کیا دیا؟ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے ملنے والی امداد ہماری ضرورت سے کہیں کم ہے، ہم نے کوشش کرکے آئی ایم ایف کا پروگرام بحال کیا اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا، گزشتہ حکومت نے ملک کو دیوالیہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ موجودہ حکومت کی کاوشوں سے سی پیک اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس میں صنعتی اور زرعی تعاون ، گوادر کی ترقی اور سماجی و اقتصادی ترقی پر فوکس کیا جائے گا ، جس کے دور رس مثبت نتائج حاصل ہونگے اور معاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگی ۔ .مسلم لیگ نواز کے صدر میاں محمد شہباز شریف پاکستان کے 23ویں وزیر اعظم ہیں اُن کی شہرت ایک سیاست دان سے زیادہ سخت گیر منتظم کی ہے جو مختلف ادوار میں قائم ہوئی شہباز شریف سے متعلق یہ بات بھی عام ہے کہ وہ بہت کم وقت کے لیے سوتے ہیں۔ شہباز شریف سے متعلق ایک رائے یہ بھی ہے کہ وہ کام کے معاملے میں کافی سخت گیر ہیں۔ شہباز شریف نے وزارت اعظمیٰ کا حلف اٹھانے کے اگلے ہی روز صبح سویرے اسلام آباد میٹرو کے منصوبے کا دورہ کیا۔ پنجاب میں زیر تعمیر منصوبوں کے اچانک دورے شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کا ایک خاصہ رہی ..سنہ 2008 سے 2018 تک مسلسل دو بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شہباز شریف کے دور اقتدار میں لاہور سمیت پنجاب میں ترقیاتی کاموں (جن میں میٹروز، اورنج ٹرین لائن جیسے بڑے منصوبے بھی شامل تھے) پر تیز رفتاری سے کام ہوا جس کے باعث شہباز گورننس ،شہباز مینجمنٹ ‘شہباز سپیڈ‘ کی اصطلاح عام ہوئی,پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے ادورا میں شہباز شریف کے حوالے سے یہ عام رائے تھی کہ وہ اپنی صوبائی کابینہ کے وزرا سے زیادہ بیوروکریٹس پر انحصار کرتے تھے اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بطور سخت گیر منتظم وہ چاہتے تھے کہ جو ‘کام شروع ہو وہ فوراً ہو جائے اور اس میں بیوروکریسی کی جانب سے کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔‘ اب وفاق میں دفاع، امور خارجہ، ملکی معیشت، بجلی اور پانی جیسے بڑے مسائل کے ساتھ شہباز شریف کی کابینہ میں اپنی جماعت کے اراکین کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں ,’اکثر اوقات بیورکریٹس تنگ بھی آ جاتے تھے کیونکہ بہت زیادہ کام کرنا پڑتا تھا۔ بیس بیس گھنٹے تک دن میں کام کرنا آسان نہیں ہوتا۔ لوگ تھک جاتے تھے لیکن شہباز شریف نہیں تھکتے تھے۔‘جس طرح کے مسائل کا ملک کو سامنا ہے، ایسے میں سخت فیصلوں کی ضرورت ہے ’یہ ایک اتحادی حکومت ہے جس کے پاس بڑے چیلنج ہیں لیکن خصوصا ایک اتحادی حکومت کے لیے جس کے پاس وقت بھی کم ہے ان کا حل نکالنا مشکل ہے۔‘اس وقت شہباز شریف نے معیشت کو بچالیا ہےوزیراعظم شہبازشریف نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے ایک ماہ پہلے مشترکہ کاروباری دوست کے ذریعے رابطہ کیا۔لاہور میں وی لاگرز سے ملاقات میں میں بتایا کہ عمران خان نے مذاکرات کی پیشکش کی اور وہ دو معاملات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنا چاہتے تھے۔ان کا کہنا تھاکہ پہلا معاملہ آرمی چیف کی تقرری کا اور دوسرا انتخابات کا تھا لیکن میں نے انکار کیا تاہم میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت پر بات کرنے کی پیشکش کی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم دن رات مہنگائی کم کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں، اگر آپ نے ملک کو دوبارہ سیاسی بحران میں دھکیلنا ہے تو موجودہ منتخب حکومت اس کی اجازت نہیں دے گی۔
آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ میرے ایک جاننے والے ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں، ایک ماہ پہلے وہ میرے پاس عمران خان کی جانب سے دھمکیوں سے لبریز مذاکرات کا پیغام لے کر آئے حالانکہ ماضی میں یہ ہماری مذاکرات کی پیشکش ہمیشہ ٹھکرا دیتے تھے اور این آر او مانگنے کا الزام عائد کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ عمران خان الیکشن کی تاریخ اور آرمی چیف کی تعیناتی پر مجھ سے مذاکرات کرنا چاہتے تھے، میں نے کہا کہ انہیں اب یاد آیا ہے؟ کیا آرمی ایکٹ میں ترامیم کے وقت انہون نے مجھ سے مشورہ کیا تھا؟
انہوں نے کہا کہ میں نے سوال کیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی خالصتاً آئینی معاملہ ہے جس کی صوابدید وزیراعظم کو حاصل ہے، تو پھر کس بات پر مشورہ کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ وہ باہمی مشاورت سے آرمی چیف تعینات کروانا چاہتے تھے کہ 3 نام میں دیتا ہوں اور 3 آپ دیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے عمران خان کو واپس پیغام بھیجا کہ میں مذاکرات کے لیے تیار ہوں جس سے ملک کسی بحرانی کیفیت میں نہ آئے، میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت پر بات ہوسکتی ہے لیکن جہاں تک آرمی چیف کے تقرر کی بات ہے تو یہ ایک آئینی معاملہ ہے اور مجھے عمران خان کے ساتھ اس بارے میں مشاورت نہیں کرنی، یہ بات آپ سب کو اس لیے بتا رہا ہوں کہ یہ ایک آئینی اختیار ہے اور اللہ کرے میں اسے خوش اسلوبی سے ادا کر سکوں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مدینہ منورہ میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی رہائی کے لیے میں نے شہزادہ محمد بن سلمان سے درخواست اور انہوں نے 10 سیکنڈ میں ان کی رہائی کے احکامات جاری کردیے۔
چیف الیکشن کمشنر سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کا نام میں نے نہیں دیا تھا، یہ نام عمران خان نے ہی دیے تھے، چیئرمین نیب کے نام پر قانونی طور پر مشاورت ہونا تھی لیکن انہوں نے وہ قانون ہی ختم کردیا تھا، اس وقت تو یہ ہم سے ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے تھے تو اب مشاورت کی پیشکش کیوں کررہے ہیں؟ یہ بدترین قسم کا دوغلا پن نہیں تو کیا ہے؟ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی تعریفوں کے پل تو یہ خود باندھتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے عمران خان کو تحفہ بطور وزیراعظم ملا تھا، 14 یا 18 کروڑ کی وہ قیمتی ترین گھڑی تھی، آپ اس تحفے کو توشہ خانہ میں جمع کرواسکتے ہیں یا پھر اس کی پرسنٹیج قیمت ادا کرکے خرید سکتے ہیں، لیکن یہ میں نے پہلی بار سنا کہ آپ اس تحفے کو بازار میں بیچ کر پیسے جیب میں ڈال لیں، انہوں نے باقی تحفے بھی توشہ خانہ میں جمع کرانے سے پہلے ہی بیچ دیے تھے اور بعد میں توشہ خانہ میں اس کی قیمت جمع کروائی۔
وزیراعظم کا کہنا تھاکہ عمران خان نے کہا تین نام میں بھجواتا ہوں اور تین آپ دیں، مل کر آرمی چیف لگا لیتے ہیں، میں نے شکریہ کہہ کر انکار کردیا اور پیغام بھجوایا کہ یہ ایک آئینی فریضہ ہے جو وزیراعظم نے ادا کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے مجھ سے اجازت لے کرپریس کانفرنس کی۔وفاقی حکومت چین کے ساتھ نئے سرے سے مذاکرات شروع کرنا چاہتی ہے۔باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے سی پیک سیکرٹریٹ کو ایک اتھارٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، جو وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کے نیچے کام سر انجام دے گی ، جس کا کام مختلف شعبہ جات میں تعاون بڑھانا اور مستقبل میں سی پیک کے منصوبوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا ۔سی پیک اتھارٹی کو منصوبوں کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے ضروری انسانی وسائل کے ساتھ اچھی طرح سے لیس کیا جائے گا ۔ اتھارٹی بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے فیصلے سازی کے عمل کو آسان بنائے گا ۔ سی پیک کے مفاہمتی یادشت کے تحت پاکستان کی طرف سے وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کا کلیدی کردار برقرار رہے گا جبکہ چین کی جانب سے این ڈی آر سی کا کلیدی کردار ہو گا ۔ موجودہ حکومت سی پیک کے تحت اسپیشل اکنامک زون کی جلد تعمیر کے لیے پر عزم ہے اور اس مقصد کے لیے 18 ارب روپے کی لاگت کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں پی ایس ڈی پی ایک کثیر رقم مختص کی گئی ہےپاک چین اقتصادی راہداری ایک بہت بڑا تجارتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد جنوب مغربی پاکستان سے چین کے شمال مغربی خود مختار علاقے سنکیانگ تک گوادر بندرگاہ، ریلوے اور موٹروے کے ذریعے تیل اور گیس کی کم وقت میں ترسیل کرنا ہے۔ اقتصادی راہداری پاک چین تعلقات میں مرکزی اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہے، گوادر سے کاشغر تک تقریباً 2442 کلومیٹر طویل ہے۔یہ منصوبہ مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے اس پر کل 46 بلین ڈالر لاگت کا اندازہ کیا گيا ہے۔ راہداری چین کی اکیسویں صدی میں شاہراہ ریشم میں توسیع ہے اس کے علاوہ پرسوں چین کے مشہور مغربی شہر چانگ چنگ کے کاروباری وفد نے ملاقات کے دوران مختلف شعبوں میں اگلے دو سے تین سال کے دوران 5 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے ۔ پچھلے چند ماہ میں 6 چینی کاروباری وفود نے پاکستان کا دورہ کیا ہے ۔



