سانحہ آمی پبلک اسکول 8 برس بیت گزر گئے مگر غم آج بھی تازہ

تحریر: راجیا سویل رانی
8 برس قبل 16 دسمبر 2014 کو دہشتگردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور پر بزدلانہ حملہ کیا، جسکے نتیجے میں 122 معصوم طلبہ سمیت 147 افراد شہید ہو گئے، یہ درد ناک واقعہ آج بھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ ان معصوم شہیدوں کی قربانی آج بھی تاریخ میں سرخ رنگ سے تحریر ہے۔
16 دسمبر کی صبح 6 دہشت گرد آرمی پبلک اسکول کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اسلحہ سے لیس دہشتگردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جسکے نتیجے میں بے گناہ طلبہ اور اساتذہ خون میں لت پت ہو گئے اور پر سکون پھول جیسے بچوں سے مہکتی ہوئی فضا بارود اور خون کی بو سے آلودہ ہوگئی، ہر طرف افراتفری اور خوف و ہراس پھیل گیا معصوم طلبا جو حصول علم کیلئے اپنے گھر سے ماں باپ کی دعا لے کر نکلے تھے بے دردی سے قتل کئے جا رہے تھے۔ ان ننھے معصوموں کا کیا خبر تھی کہ صفاک درندے انکی خون کے پیاسے اسکول جیسی علم حاصل کرنے والی مقدس جگہ پر انہیں بے دردی سے قتل کر دیں گے، اور وہ معصوم پھول اپنی جان کا نذرانہ دے کر ہمیشہ کیلئے اس قوم کی تاریخ کے پنوں پر سرخ رنگ سے بہادری کی عمدہ مثال قائم کر جائیں گے۔
جہاں ایک طرف اسکول میں خوف کی فضا ہر سو تھی وہیں کچھ بہادر طلبہ، اساتذہ اور اسکول کی پرنسپل نے ہمت اور بہادری کی ایسی اعلیٰ مثال قائم کی جو تاریخ میں ہمیشہ سنہرے لفظوں میں لکھی جائے گی۔ ان جرات مندوں نے اپنی جان کی پرواہ نا کرتے ہوئے بہادری سے درندوں کا مقابلہ کیا اور کئی معصوم طلبا کی جان بچائی اور خود اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
حملے کے فوری بعد پاک فوج کے جاں بازوں نے اسکول کا گھیراو کر کے انتہائی جرات مندی سے مقابلہ کیا اور خودکش حملہ آوروں کو مار ڈالا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے نتیجے میں جہاں ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوا وہیں علم دشمن عناصر کے ناپاک ارادے بھی خاک میں مل گئے۔ اس سانحہ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نئی روح پھونکی جس کے نتیجے میں نیشنل ایکشن پلان تشکیل پایا اور آپریشن ضرب عضب کی مدد سے قبائلی علاقوں سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہوا۔
آج 8 برس بعد بھی اس دلخراش واقعے کو یاد کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے جبکہ شہداء کے پسماندگان بھی اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہوئے غمگین ہو جاتے ہیں، لیکن جب قربانی دینے والے ان عظیم شہیدوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے تو ان کے حوصلے اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ان شہیدوں کی قربانی آج بھی دلوں میں زندہ ہے، اور پوری قوم ان بہادروں کو سلام کرتی ہے، اور ہر سال 16 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن رہے گا۔


