مرد جلدی کیوں مرتے ہیں؟ سنئے ایک دکھی مرد کی وجوہات


حالیہ دنوں میں سوشل میڈيا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی ہے جس میں ایک شخص نے پاکستان میں عورتوں کی لمبی زندگی اور مردوں کی مختصر زندگی کی حیرت انگیز وجوہات بیان کی ہیں-
ان کے مطابق مردوں کی مختصر زندگی کی وجوہات کچھ اس طرح سے ہیں (ضروری نہیں ہے کہ ان کے نقطہ نظر سے آپ بھی متفق ہوں یہ ان کی ذاتی راۓ ہے )-
1: عورتیں کھانا بناتے ہوئے سارے اچھے کھانے چکھنے کے نام پر خود کھا لیتی ہیں جب کہ مردوں کو بچا کچا کھانا ملتا ہے۔
2: عورتوں کی زندگی ٹینشن سے آزاد ہوتی ہے مردوں کو تمام چیزوں کی فکر ہوتی ہے۔
3: مہنگائی نے مردوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے بجلی مہنگی، سبزی مہنگی جب کہ آمدنی وہی پرانی اس وجہ سے مرد پریشانی میں جلدی مر جاتے ہیں۔
4: جو مرد ہر معاملے میں بیوی کی سنتے ہیں اور اس سے مشورہ لیتے ہیں وہ بھی جلدی موت کا شکار ہو جاتے ہیں جب کہ جو مرد بیوی کی نہیں سنتے اور اس کو خود سے پیچھے رکھتے ہیں ان کی زندگی عام مردوں کے مقابلے میں طویل ہوتی ہے۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ، لیکن سائنس نے بھی ثابت کیا ہے مرد عورتوں کے مقابلے جلدی مر جاتے ہیں اور اس کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔
سال 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق دس سال کے سروے کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پندرہ سے ساٹھ سال کی عمر کے دوران ہر ہزار میں سے عورتوں کے مرنے کی شرح ایک سو چھتیس اعشاریہ چار ہے جب کہ ان کے مقابلے میں مردوں کے مرنے کی شرح ایک سو اکہتر اعشاریہ نو آٹھ ہے جو کہ کافی زيادہ ہے۔
مردوں کے مرنے کی شرح عورتوں کے مقابلے میں کافی زيادہ ہے اس حوالے سے ماہرین نے ریسرچ کر کے مختلف وجوہات بیان کی ہیں جن کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے۔
مرد عورتوں کے مقابلے میں غیر صحت مند عادات کا شکار
عام طور پر عورتوں کے مقابلے میں مرد تمباکو نوشی جیسی غیر صحت مند عادات کا شکار زيادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اندر پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ تمام بیماریاں ان کے لیے قبل از وقت موت کا سبب بن سکتی ہیں۔
مرد عورتوں کے مقابلے میں زيادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں
ہمارے معاشرے میں معاشی ذمہ داریاں زیادہ تر مردوں کے کاندھوں پر ہوتی ہیں اور معاشرتی روایات کے سبب مرد اپنی معاشی مسائل سے اپنے گھر والوں کو دور رکھتے ہیں اور سارے دباؤ کا سامنا اکیلے کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور اس کے سبب ہونے والی بیماریوں مثال کے طور پر ذيابیطس، ہائي بلڈ پریشر اور اس جیسی دوسری بیماریوں کا شکار ادھیڑ عمری میں ہی ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں قبل از وقت موت کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
صحت کے حوالے سے بے احتیاطی
بچوں کی پیدائش کے حوالے سے اور اس کے بعد ہونے والے مسائل کے سبب خواتین اکثر و بیشتر ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے جاتی رہتی ہیں جب کہ مرد حضرات ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے سیلف میڈيکیشن پر انحصار کرتے ہیں اور جب تک پانی سر پر سے نہیں گزر جاتا ہے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔



