دلچسپ و عجیب

امام کے سامنے رکھے گئے چار جنازوں میں سے ایک کا سر کیوں نہیں ڈھانپا گیا؟

سوشل میڈیا پر کئی بار ایسی تصاویر وائرل ہوتی ہیں جن پر اکثر سوال اٹھتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔

اوپر موجود تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ ٹسویر مسجد حرم کی ہے جہاں اِمام کے سامنے 4 جنازے رکھے ہیں، جن میں سے 3 کا چہرہ اور بدن ڈھانپا گیا ہے جبکہ ایک کا چہرہ واضح کھلا ہوا ہے۔

اس تصویر کو دیکھ کر لوگوں کے ذہنوں میں سوال پیدا ہوا کہ ایک میت کا چہرہ کیوں نہیں ڈھانپا گیا اور ایسا کیوں ہوتا ہے؟

خیال رہے کہ یہاں اس حوالے سے بات کی جا رہی ہے کہ کچھ جنازوں میں اس طرح سر کیوں کھلا ہوتا ہے۔

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1849 میں اس حوالے سے پورا واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ” کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو جو حالت احرام میں میدان عرفات میں اونٹنی سے گر کر شہید ہوگئے تھے۔ اُن کو بیری کے پتوں کے پانی سے غسل دیا گیا، نہ خوشبو لگائی، نہ سر ڈھانپا نہ چہرہ ڈھانپا اور کفن میں وہی احرام کی دو چادریں تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا قیامت کے دن یہ اسی حالت میں رب کی سامنے تلبیہ کہتا ہوا اُٹھے گا۔

اس حدیث کی وضاحت یہ ہے کہ اس حدیث کی روشنی میں دوران حج وفات پانے والے کو بیری ، پانی اور غیرخوشبو والے صابن سے غسل دیا جائے گا اور احرام کے کپڑے میں ہی کفن دیا جائے گا۔ نہ اس کا بال کاٹا جائے گا، نہ اس کا ناخن کاٹا جائے گا اور نہ ہی اسے خوشبو لگائی جائے گی۔ محرم کی طرح اس کا سر بھی کھلا رہے گا اور کھلے سر، ایک چادر، ایک ازارمیں نماز جنازہ پڑھ کر دفن کردیا جائے گا۔

یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ حاجی ہے، قیامت میں اسی حالت میں تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔

ہاں اگر مرنے والی عورت ہو تو اس کا سر وچہرہ سمیت مکمل بدن ڈھانپا جائے گا ۔اور چونکہ اس حدیث میں یا دیگر کسی حدیث میں دوران حج وفات پانے والے میت کی طرف سے قضا کا حکم نہیں ہے اس لئے اس کی طرف سے قضا کرنا ضروری نہیں ہے ، نہ اسے اتمام کی ضرورت ہے اور نہ کوئی فدیہ یا کفارہ ہے۔

اگر اللہ نے میت کو مال کی فراوانی سے نوازا ہے اور اس کے ورثاء میں سے کوئی قضا کے طور پر حج کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرط کہ حج قضا کرنے والا پہلے اپنا حج کرچکا ہو۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button