دلچسپ و عجیب

وہ ملک جہاں چوہے جہیز میں دیے جاتے ہیں

کیا آپ نے کبھی کسی ایسی جگہ کا نام سنا ہے جہاں چوہے پسندیدہ غذا ہی نہیں بلکہ دلہن کو جہیز میں بھی دیے جاتےہوں؟

ہر سال سات مارچ کو، شمال مشرقی انڈیا کی پہاڑیوں کے ایک دور دراز گاؤں میں آدی قبیلہ ایک تہوار ’یوننگ آران‘ مناتا ہے۔

یہ ایک غیر معمولی تہوار ہے، جس میں چوہے ان کے کھانے کے بہترین پکوان میں شامل ہوتے ہیں۔

آدی قبیلے کے لوگوں کے پسندیدہ پکوانوں میں سے ایک بولے بلاک اوئنگ نامی سٹو ہے، جس میں چوہے کے معدے، آنت، جگر، خصیے، دم اور ٹانگوں کو نمک، مرچ اور ادرک کے ساتھ ابال کر اسکا سوپ تیار کیا جاتا ہے۔

اس تہوار کی پہلی صبح بچوں کو دو مرے ہوئے چوہے تحفے کے طور پر دیے جاتے ہیں، بالکل اس طرح جیسے کرسمس کی صبح بچوں کو کھلونے دیئے جاتے ہیں۔

اس کمیونٹی میں ہر قسم کے چوہوں کو پسند کیا جاتا ہے، چاہے وہ گھر کے ارد گرد نظر آنے والے چوہے ہوں یا پھر جنگل میں رہنے والی ان کی جنگلی نسل۔

فن لینڈ کی اولو یونیورسٹی کے وکٹر بینو میئر روچو نے اپنی ایک حالیہ تحقیق کے دوران آدی قبیلے کے بہت سے لوگوں سے بات کی ہے۔

ان کی تحقیق کھانے کے وسائل کے طور پر چوہے کے استعمال پر مبنی ہے۔

میئر روچو کا کہنا ہے کہ خاص طور پر چوہے کی دم اور پاؤں بہت ذائقے دار ہوتی ہے۔

میئر روچو کے مطابق یہاں کے لوگوں کو چوہے اتنے پیارے ہیں کہ مردہ چوہے تحفے میں بھی دیے جاتے ہیں۔

اسکے علاوہ یہ جہیز کی بھی ایک اہم روایت ہے، دلہن کے رشتہ دار اپنی بیٹی کو تحفے میں چوہے بھی دیتے ہیں۔

اس بارے اتنی زیادہ معلومات نہیں ہیں کہ آدی لوگوں کے دل میں چوہوں کے لیئے رغبت کب اور کیسے شروع ہوئی، لیکن میئر روچو کے مطابق یہ ایک طویل عرصے سے جاری رہنے والی روایت ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button