بھارتی پولیس اہلکار غیر معیاری کھانے پر رو پڑا


سوشل میڈیا پر منوج کمار نامی بھارتی پولیس اہلکار کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں اسے ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کو دیے جانے والے کھانے پر دہائیاں دیتے دیکھا جاسکتا ہے۔
وائرل ویڈیو میں کانسٹیبل منوج کمار کو ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ ہے جس میں سوکھی روٹیاں اور دال دیکھی جاسکتی ہے۔
منوج کمار کا کہنا تھا کہ اسے دیے جانے والے کھانے کا معیار اتنا خراب ہے کہ اسے کتے بھی نہیں کھا سکتے جس کی شکایت اس نے اعلیٰ حکام سے بھی کی، لیکن اس کی دہائی سننے والا کوئی نہیں بلکہ اس کے برعکس اس پر دباؤ ڈالا گیا۔
‘सरकार हमसे 12-12 घंटे काम कराती है और बदले में ऐसा खाना देती है’
– फिरोजाबाद में तैनात UP पुलिस के सिपाही मनोज कुमार के ये आंसू बताने के लिए काफी है कि प्रधानमंत्री 18-18 घंटे किन 2 लोगों के लिए काम कर रहे है और बाकियों का क्या हाल है pic.twitter.com/RdMtxRKsvo
— Indian Youth Congress (@IYC) August 10, 2022
وائرل ویڈیو میں بھارتی پولیس اہلکار نے کہا کہ جب اس معاملے کی شکایت ڈی جی پی سے کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کے پی ایس او نے انہیں فون کاٹنے کا مشورہ دیا، بصورت دیگر نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق منوج کمار 2018 میں پولیس کانسٹیبل بھرتی ہوا اور اس کا تعلق علی گڑھ سے ہے۔
دوسری جانب ریزرو پولیس لائنز کے حکام نے غلطی تسلیم کرنے کے بجائے منوج کمار کی ویڈیو کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ منوج طلاق کے بعد پریشان ہیں۔
تاہم ویڈیو وائرل ہونے کے بعد فیروز آباد پولیس نے کھانے کے معیار کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔



