آسٹریلیا کی پہلی حجابی سینیٹر نے تاریخ رقم کردی

27 سالہ خاتون کا پارلیمنٹ تک پہنچنے کا سفر بہت منفرد رہا۔
27 سالہ فاطمہ پیمان آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں پہلی حجاب پہننے والی مسلم خاتون ہیں، انہوں نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے امید ہے میرا یہ سفر دوسروں کو متاثر کرسکتا ہے۔
وہ صرف آٹھ برس کی تھیں کہ اپنی والدہ اور تین چھوٹے بہن بھائیوں کے ہمراہ آسٹریلیا پہنچیں۔
اُنہوں نے پرتھ میں آسٹریلین اسلامک کالج میں تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹر بننے کے لیے یونیورسٹی گئیں لیکن ڈاکٹر بننے کے بجائے سیاست میں شامل ہو گئیں۔


فاطمہ کے والد 2018 میں 47 سال کی عمر میں لیوکیمیا کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے اور بدقسمتی سے وہ اپنی بیٹی کو سینیٹر بنتا نہ دیکھ سکے۔
سینیٹر فاطمہ پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر میں اُس وقت جذباتی ہوئیں کہ جب وہ اپنے والد کی قربانیوں کے لیے شکریہ ادا کر رہی تھیں جو ایک افغان مہاجر کے طور پر آسٹریلیا پہنچے تھے۔
فاطمہ پیمان نے اپنے تقریر کے دوران کہا کہ کیا کبھی کسی نے سوچا تھا افغانستان میں پیدا ہونے والی ایک مہاجر کی بیٹی آج اس مقام پر کھڑی ہوگی؟
اُنہوں نے کہا کہ میرے والد نے اپنے خاندان اور اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے بہت سی قربانیاں دیں، ٹیکسی ڈرائیور سے لیکر سیکیورٹی گارڈ تک کی ملازمت کی۔
مسلم حجابی سینیٹر نے مزید کہا جو لوگ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ کیا پہنوں وہ سن لیں حجاب میری پسند اور ترقی کا ضامن ہے، میں اپنی اسی طاقت کی بدولت آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے آئی ہوں۔



