برٹش ایئرویز کے یونیفارم میں 20 سال بعد تبدیلی، حجاب بھی لباس کا حصہ

حجاب یونیفارم کا لازمی حصہ نہیں، ایئرہوسٹس کی اپنی مرضی ہوگی کہ وہ پہننا چاہیں یا نہ پہنیں۔
برطانوی ایئر لائن برٹش ایئرویز نے20 سالوں بعد اپنا نیا یونیفارم متعارف کرایا ہے جس میں خواتین ملازمین کے لیے حجاب بھی لباس کا حصہ ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آج نئے یونیفارم کی رونمائی کی گئی جو مشہور برطانوی فیش ڈیزائنر نے تیار کیا ہے۔
مردوں کے لیے نیا یونیفارم تھری پیس پر مشتمل ہے جب کہ خواتین کے لیے اسکرٹ، ٹراؤزر اور جمپ سوٹ ہے اور ساتھ ہی سر ڈھانپنے کے لیے حجاب بھی یوبیفارم کا حصہ ہے،حجاب یونیفارم کا لازمی حصہ نہیں، ایئرہوسٹس کا اختیار ہوگا کہ وہ پہننا چاہیں یا نہ پہنیں۔
یہ نیا یونیفارم 30 ہزار خواتین کے لیے ہوگا جبکہ پرانا لباس ری سائیکلنگ کے لیے یا پھر خیراتی ادارے کے حوالے کردیا جائے گا۔
موسم بہار سے ایرویز کے اسٹاف اس لباس کو استعمال کرسکتے ہیں اور تمام جہاز میں خدمات انجام دینے والی مسلمان خواتین اپنے لباس کو تبدیل کرکے اس یونیفارم سے استفادہ کرسکتی ہیں۔
یونیفارم بنانے والے درزی کا کہنا تھا کہ میری خواہش تھی کہ ایسا لباس بناءوں جسے سب تسلیم کریں اور اسے زیب تن کرکے اجنبیت کا احساس پیدا نہ ہو، یہ لباس محض ایک کپڑا نہیں بلکہ شخصیت کو سنوارنے کا باعث بھی ہے۔
برٹش ائیرویز کے ڈائریکٹر شان دویل کا کہنا تھا کہ یہ یونیفارم اعتماد کی علامت ہے جسے پہن کر ہمارا اسٹاف اپنے اوپر فخر محسوس کرسکے گا۔
یاد رہے کہ برٹش ائیرویز کا 1919 میں فوجی طرز کا یونیفارم تھا جس میں ٹائی اور اسٹائلش ٹوپی بھی شامل تھی۔



