اہم خبریںبزنس

ٹماٹر کی قیمت 500 کے قریب پہنچ گئی

بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے فصلوں کی تباہی اور منڈیوں میں سپلائی کم ہونے کے باعث کراچی کی مارکیٹ میں ٹماٹر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور ایک کلو ٹماٹر کی قیمت 480 روپے ہوگئی جبکہ پیاز کی قیمت 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پیاز اور ٹماٹر قیمتوں میں 60 سے 90 روپے فی کلواضافے سے ان کی قیمت 110 اور 150 روپے فی کلو پر پہنچ گئی۔ایک صارف نے بتایا کہ گلشن اقبال کے معروف سْپر اسٹور میں ایک کلو ٹماٹر 480 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔رواں سال جولائی کے بعد سے بلوچستان اور سندھ میں تیز بارش اور سیلاب کی وجہ سے سڑکوں کی بدحالی کے باعث فصلیں تباہ ہونے سے منڈیوں میں سپلائی کم ہوئی ہے۔دونوں صوبوں میں سیلابی صورتحال کے باعث سپلائی میں کمی کے باعث آنے والے دنوں میں سبزیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔خوردہ فروش بھی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرانے اسٹاک کو دگنے دام میں فروخت کررہے ہیں۔حالیہ مہنگائی نے صارفین کو بھی شدید متاثر کیا ہے جو آنے والے دنوں میں سبزیوں بالخصوص پیاز اور ٹماٹر کی شدید قلت کے خوف سے قیمتوں میں مزید اضافے سے پریشان ہیں۔روز مرہ کی مختلف اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے کئی صارفین نے اپنی روزمرہ کی خریداری بھی کم کردی ہے، ایسے میں صرف آلو ہی 60 سے 50 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے جو عوام کی قوت خرید کی دسترس میں ہے۔شملہ مرچ 320 روپے فی کلو، لوکی 200 روپے فی کلو اور تورائی 160 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہیں جبکہ گوبی کی قیمت 240 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، اس کے علاوہ کھیرے 200 روپے فی کلو ، ہرا دھنیا اور پودینا کی ایک گڈی 30 روپے جبکہ بھنڈی کی قیمت 250 سے 320 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے۔

فلاحی انجمن ہول سیل سبزی منڈی سپرہائی وے کے صدر حاجی شاہجہان نے بتایا کہ بلوچستان میں ٹماٹر اور پیاز کی آمد 10 فیصد تک محدود ہو گئی ہے جبکہ فصلوں کو پہنچنے والے نقصان، سیلابی پانی کھڑا ہونے اور بلوچستان سے کراچی جانے والی سڑکوں کو پہنچنے والے بھاری نقصان کی وجہ سے سندھ میں صرف 30 فیصد اشیا ہول سیل مارکیٹ میں پہنچ رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button