
سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کا بطور وزیراعلیٰ 22 جولائی سے قبل کی حیثیت بحال کرنے کا عندیہ دے دیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وزیر اعلٰی پنجاب کے انتخاب کے دوران ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے معزز عدالت کے روبرو کہا گیا کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوا، حمزہ شہباز نے 179 جب کہ پرویز الہیٰ نے 186ووٹ حاصل کیے، ڈپٹی اسپیکر نے ق لیگ کے دس ووٹ مسترد کردیے، ڈپٹی اسپیکر نے چوہدری شجاعت حسین کے مبینہ خط کو بنیاد بنا کر ق لیگ کے ووٹ مسترد کیے، جب کہ پارلیمانی پارٹی کے کردار کو نظر انداز کیا۔
علی ظفر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا۔ جس پر چیف جسٹس نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو ذاتی طور پر طلب کرلیتے ہیں۔ دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کر دیتے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کو بھی معاونت کے لیے طلب کرلیتے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر ہی بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے کس پیرا گراف کا حوالہ دیا۔ انہوں نے علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو کتنی دیر میں طلب کریں، اس پر علی ظفر نے عدالت سے کہا کہ دو گھنٹے میں بلوا لیں۔
چیف جسٹس نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کو فوری طور پر اسمبلی کے الیکشن کے ریکارڈ سمیت عدالت میں طلب کرلیا، جب کہ اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
عدالت کی جانب سے معاونت کیلئے ایڈووکیٹ جنرل کو بھی سپریم کورٹ رجسٹری طلب کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران پرویز الہیٰ کے وکیل عامر سعید نے کہا کہ حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ کا حلف لے لیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس سے فرق نہیں پڑتا، ہم نے آئین اور قانون کی بات کرنی ہے۔ آپ لوگ بھی ذرا صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں، ڈپٹی اسپیکر آ کر بتائیں گے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس پیرا کی بنیاد پر رولنگ دی۔ سماعت میں کچھ دیر کیلئے وقفہ دیا گیا۔
اس موقع پر عدالت نے ابتدائی سماعت کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کیا۔ تین صفحات پر مشتمل حکم نامے میں کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں لارجر بینچ کا حوالہ دیا مگر ڈپٹی اسپیکر نے اس پیراگراف کو پوائنٹ نہیں کیا جس کا حوالہ دیا گیا۔
فیصلے میں معاملے کو پیچدہ قرار دیتے ہوئے لکھا گیا کہ بظاہر معامل معاملہ کافی پیچیدہ لگتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین اپنی قیمتی رائے سے عدالت کو اسسٹ کریں گے۔ ڈپٹی اسپیکر ریکارڈ سمیت عدالت پیش ہوں۔



