
کیاسابق ایلیٹ امپائر غربت سے تنگ آکر لنڈے بازار میں دکان کھولنے پر مجبور ہو ئے ؟
اسد رؤف نے گفتگو میں کہا کہ آج کل کچھ اس طرح سے میری کہانی بیان کی جا رہی ہے کہ خدا نخواستہ میں بہت برے حالات میں ہوں اور غربت کی وجہ سے میں لنڈے بازار میں کام کرتا ہوں ۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تو یہ ایلیٹ چیزوں کا کام اس وقت بھی کرتا تھا جب میں ایلیٹ امپائر تھا ۔ امپائرنگ ہوائی روزی ہے آج ہے تو کل نہیں تو ایسے میں میں نے سیکنڈ ہینڈ چیزوں کا کام ساتھ میں شروع کر دیا ، جوتے کپڑے اور بیگز ایسے کہ کہیں سے نہ ملیں،کراکری کا کام بھی کرتا ہوں اور کراکری میں ایسی چیزیں بھی شامل ہیں جو شاہی خاندان میں بھی استعمال ہوتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ جو چیزیں منگواتا ہوں انہیں ویسے ہی بیچنا شروع کر دیتا ہوں، میرا ایک وئیر ہاؤس ہے، وہاں تمام چیزیں پراسیس ہوتی ہیں اور ایک پراسیس کے بعد یہاں اسٹور کی زینت بنتی ہیں اور پھر لوگ دور دور سے آتے ہیں ۔
اسد رؤف کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ چیزیں ہر کسی کے بس میں نہیں ہیں اور ان امپورٹڈ چیزوں کے نمبر ایک اور نمبر دو ہونے کا بھی نہیں پتہ جبکہ میرے پاس اعلیٰ برینڈز کی اچھی حالت میں اصلی چیزیں دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں سیکنڈ ہینڈ کاروبار میں آر محسوس نہیں کرتا، مجھے فخر ہے کہ میں یہ کاروبار کر رہا ہوں جو میرے خاندان میں کسی نے نہیں کیا اور نہ اس کا سوچا ہے۔ میں اپنے کاروبار سے بہت مطمئن ہوں، اس میں زیادہ سرمایہ کاری کی بھی ضرورت نہیں ہے جبکہ منافع کا مارجن بھی بہت زیادہ ہے



